نگران حکومت علماء سے مدد

پرامن ماحول میں انتخابات کیلئے نگران حکومت نے علماء سے مددمانگ لی

ویب ڈیسک : نگراں وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد اعظم خان نے تمام مکتبہ ہائے فکر کے مذہبی رہنمائوں اور علمائے کرام سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ صوبے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے اور اس سلسلے میں عوام الناس کی رہنمائی کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں جو اس وقت نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی شدید ضرورت ہے ۔اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے گزشتہ روز پشاور کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے سلسلے میں علمائے کرام اور مذہبی رہنمائوں کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اُن کے اس مثبت کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ علمائے کرام اور مذہبی رہنمائوں نے ہمیشہ ایسے معاملات میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے اور یقین ہے کہ علمائے کرام اپنا یہ مثبت کردار آئندہ بھی ادا کرتے رہیں گے ۔ محمد اعظم خان کا کہنا تھا کہ صوبے کی موجودہ صورتحال اور عام انتخابات کے پرامن انعقاد کے تناظر میں ایک پرامن ماحول کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ اسی صورتحال میں ہم کسی بھی فرقہ وارانہ مسائل کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مکتبہ ہائے فکر کے علماء فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے اور ایسے ناخوشگوار صورتحال پیش آنے کی صورت میں لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈ ا کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں تاکہ ایسے معاملات کو قانون کے مطابق حل کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں:  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، ملک شہزاد احمد 8 مارچ کو حلف لیں گے