فاسفورس بم

غزہ پر اسرائیلی فاسفورس بم حملے، 1100 سےزائد فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں پر ممنوعہ وائٹ فاسفورس بم کا استعمال کرنا شروع کر دیا، اسئیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 11 سو سے تجاوز کر گئی جن میں 143 بچے اور 105 خواتین بھی شامل ہیں۔
ویب ڈیسک: غزہ میں اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں پر ممنوعہ وائٹ فاسفورس بم کا استعمال کرنا شروع کر دیا. غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے بعد خان یونس ہسپتال میں لاشیں رکھنے کی جگہ ختم ہو گئی، اکثر لاشیں مردہ خانے میں سٹریچرز پر پڑی ہیں، اسرائیلی حملوں کے دوران ریڈ کریسنٹ ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے 3 فلسطینی شہید ہو گئے،اسرائیل نے غزہ یونیورسٹی پر بھی بمباری کی، شہید ہونے والوں میں صحافی بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری میں اقوام متحدہ کے 9 اہلکار ہلاک ہو چکے، ایک لاکھ، 84 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں، 23 ہزار سے زائد رہائشی یونٹ، 10 طبی مراکز، یونیورسٹی اور 48 سکول تباہ ہو چکے۔
دوسری جانب یورپی یونین نے غزہ کی ناکہ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے مگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قابل قبول نہیں، نہتے شہریوں کو بجلی، پانی اور خوراک کی بندش کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
سعودی عرب نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، غزہ اور اس کے گردونواح میں لڑائی بند ہونی چاہیے، خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے حق میں نہیں، چین نے بھی غزہ میں جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

مزید پڑھیں:  جبالیہ اور نصیرت کیمپوں پر اسرائیلی بمباری، 56 سے زائد فلسطینی شہید