اسرائیل کی عارضی جنگ بندی میں توسیع پر مشروط آمادگی

ویب ڈیسک: حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ سے ہر سو تباہی پھیلی ہوئی ہے، غزہ کا پورا انفراسٹرکچر ہی تباہ ہو گیا ہے، ہسپتال بچ پائے ہیں نہ تعلیمی ادارے اور پناہ گاہیں، سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔ الشفاء ہسپتال سے لے کر تمام طبی مراکز تک اسرائیلی فوج کے نشانے پر ہیں۔
ذرائع کے مطابق قطر کی کوششوں سے 4 روزہ عارضی جنگ بندی کے دوران یرغمالیوں کے تبادلے کو شرط رکھا گیا تھا جو تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔
جنگ بندی کے لئے طے معاہدے میں توسیع پر دونوں متحارب فریقین نے بھی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ عارضی جنگ بندی کا آغاز 24 نومبر سے ہوا تھا جس کے نتیجے حماس کی جانب سے درجنوں یرغمالی رہا کئے جا چکے جبکہ اسرائیل نے بھی 100 سے زائد فلسطینی رہا کئے۔
اب عالمی سطح پر کی جانیوالی کوششوں کی بدولت اسرائیلی حکومت کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کیلئے حماس کے سامنے ایک آپشن رکھا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حماس کو مزید 50 یرغمالیوں کو رہا کرنا ہو گا۔
ذرائع کے مطابق حماس اور اسرائیل کے مابین 4 روزہ عارضی جنگ بندی اپنے آخری 24 گھنٹوں میں داخل ہو چکی ہے۔ اس لئے امریکہ اور فرانس سمیت دیگر ممالک نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی مِں مزید توسیع کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
قطر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کی بدولت دونوں جانب سے درجنوں یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ عارضی جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس نے بھی ثالثوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ اس جنگ بندی کو 2 سے 4 روز تک آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
امریکہ، مصر اور قطر نے اسرائیل سے جنگ بندی میں توسیع کی اپیل کی ہے۔ حماس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر مزید فلسطینیوں کی رہائی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جاتے ہیں، تو وہ بھی چار روزہ فائر بندی میں توسیع کرنے کا خواہش مند ہو گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے عندیہ دیا ہے کہ ہر دس اضافی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے فائر بندی میں ایک دن کی شرح سے توسیع کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:  انتخابی نتائج پراتفاق نہ ہوا تو آئین میں حل موجود ہے،مرتضیٰ سولنگی