اقبال پلازہ

پشاور: مشہور زمانہ اقبال پلازہ سے خواجہ سراؤں کو نکالنے کا مطالبہ

کیپٹل میٹرو پولیٹن گورنمنٹ کے اجلاس میں اقبال پلازہ خواجہ سراﺅں سے خالی کرانے کی قرار داد منظور، بڑے سرکاری کالج کے قریب پلازے کی موجودگی نوجوان نسل کی تباہی کا سبب ہے، ممبران
ویب ڈیسک :پشاور میں واقع مشہور زمانہ اقبال پلازہ سے خواجہ سراﺅں کو نکالنے کا مطالبہ ایک بار پھر سامنے آگیا ،اس حوالے سے پشاور کی بلدیاتی حکومت نے اقبال پلازہ خواجہ سراﺅں سے خالی کرانے کی قرارداد منظور کرلی ہے ۔
پشاور سٹی کی بلدیاتی حکومت کیپٹل میٹرو پولیٹن گورنمنٹ کا اجلاس پریذائیڈنگ آفیسر ملک طارق کی سربراہی میں منعقد ہوا ۔
اجلاس کے دوران ممبران کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ کونسل سے چند قدم پر موجود اقبال پلازہ میں خواجہ سرا آباد ہیں اور وہ جسم فروشی کے مکروہ دھندا میں ملو ث ہیں قریب ہی شہر کا سب سے بڑا سرکاری کالج ہے نوجوان نسل اس ایک اقبال پلازہ کے باعث تباہ ہورہی ہے اور تمام متعلقہ ادارے خاموش ہیں ۔
ممبران نے مطالبہ کیا کہ پولیس سمیت تمام متعلقہ ادارے فوری طور پر کارروائی کریں اور اقبال پلازہ میں آباد خواجہ سرﺅں کو یہاں سے ہٹائیں تاکہ نوجوان نسل کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے کونسل نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
اقبال پلازہ پشاور شہر کے عین وسط میں تاریخی شاہی باغ کے قریب ایک تنگ سی گلی میں واقع ہے ‘پلازہ میں درجنوں خواجہ سراءآباد ہیں جہاں شام ڈھلتے ہی یہ خواجہ سراءباہر نکل آتے ہیں اور آتے جاتے شہریوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔
کئی خواجہ سراءیہاں سے شادی بیاہ کی تقاریب میں شرکت کیلئے جاتے ہیں خواجہ سراﺅ ں کیلئے پشاور میں جب کوئی بھی جگہ نہیں تھی تو اس پلازہ میں انہیں رہائش دی گئی تب سے اب تک یہ پلازہ خواجہ سراﺅں کی رہائش کیلئے مشہور ہے ۔
اقبال پلازہ کے اطراف میں اشیاءخورنوش کی مارکیٹ میں جہاں روزانہ کروڑوں کا کاروبار ہوتا ہے تاہم شام ڈھلتے ہی اس پلازہ کے باہر اوباش نوجوانوں کی بڑی تعداد جمع ہوجاتی ہے
کئی بار اس پلازہ کے باہر فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جس کے باعث پولیس کی ایک موبائل وین یہاں مستقل موجود رہتی ہے۔۔
واضح رہے کہ اقبال پلازہ سے خواجہ سراﺅ ں کو نکالنے کا یہ مطالبہ نیا نہیں ہے ماضی میں کئی بار سماجی تنظیموں اور مقامی آبادی نے اس پلازہ کو خالی کرانے کیلئے احتجاجی مظاہرے بھی کئے اور مطالبات بھی کئے ہیں لیکن سب بے سود رہے ۔
پولیس بھی پلازہ میں موجود خواجہ سرﺅں کے روزانہ کے جھنجھٹ سے پریشان ہے تاہم خواجہ سراﺅں کی جانب سے سخت ردعمل کے خوف کے باعث پولیس بھی کوئی کارروائی کرنے سے گریزاں رہی ہے
اب بلدیاتی حکومت نے قرارداد تو منظور کرلی تاہم اس پر عمل کتنا ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

مزید پڑھیں:  پشاورکی جامعات میں وی سیز تعیناتی کا مسئلہ حل کررہے ہیں، صوبائی وزیر مینا خان