جسٹس (ر) شاہد جمیل

میرا استعفیٰ نظام کےخلاف بغاوت ہے، جسٹس (ر) شاہد جمیل

ویب ڈیسک :لاہور ہائی کورٹ کے مستعفی ہونے والے جسٹس ریٹائرڈ شاہد جمیل نے کہا ہے کہ فیصلے کرتے وقت ججز کو خوف ختم کرنا پڑے گا‘میرا استعفیٰ دباو¿ نہیں بلکہ نظام کے خلاف بغاوت ہے ۔
لاہور میں وکلا کی تقریب سے خطاب میں جسٹس ریٹائرڈ شاہد جمیل نے کہا کہ کوئی غلط کام کرنے سے بہتر ہے آپ عہدہ چھوڑ دیں، چھوٹی سی تعداد نے بار، سیاسی جماعتوں، اداروں اور نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور وہی سسٹم کو اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں۔
جسٹس ریٹائرڈ شاہد جمیل نے منصفی کے دوران کبھی دباو¿ نہ لینے کا دعویٰ کرتے ہوئے واضح کیا کہ دباو¿ میں آکر استعفیٰ نہیں دیا بلکہ ان کا استعفیٰ نظام کے خلاف بغاوت ہے۔
یاد رہے کہ 2 فروری کو جسٹس شاہد جمیل خان نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کردیا تھا۔
انہیں 2029 میں ریٹائر ہونا تھا اور وہ سنیارٹی لسٹ میں گیارہویں نمبر پر تھے۔
جسٹس شاہد جمال کی جانب سے ارسال کردہ استعفے میں کہا گیا تھا کہ میں نے 10 سال تک لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر فرائض انجام دیے۔

مزید پڑھیں:  پاک ایران بہتر تعلقات پر امریکی رویئے پر ملیحہ لودھی کا دو ٹوک موقف