چیف جسٹس کے نام پی ٹی آئی کا خط، قانون کی بالادستی کا مطالبہ

ویب ڈیسک: پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اجازت سے چیف جسٹس کو 7 نکات پر مشتمل خط لکھا گیا ہے۔
خط میں بانی پی ٹی آئی نے سول سپریمیسی اور آئین کی بالادستی پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خط میں نوازشریف کی توشہ خانہ سے گاڑی کے معاملے پر نیب کا بیان بھی تحریر کیا۔
خط میں تحریر ہے کہ اب ثابت کرنے کا وقت ہے۔ خط میں بہاونگر واقعہ، ججز کا خط اور کمشنر راولپنڈی کے معاملے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی اجازت سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے پی ٹی آئی کی درخواست دو ماہ سے زیر التواء ہے۔ اس حوالے سے غیر سنجیدگی آئینی بحران کو بڑھا دے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رؤف حسن نے کہا کہ چیف جسٹس قانون کی دھجیاں اڑانے اور ماتحت عدلیہ کا بھی نظام نہیں برقرار رکھ سکے، خط میں توشہ خانہ کے ریفرنس اور دیگر کیسز کا بھی لکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے خط میں مزید لاقانونیت اور حالات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ قابض لوگ ہر ممکن کوشش سے پی ٹی آئی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ 8 فروری کو انٹرنیٹ معطل کیا گیا تھا اب ض٘نی انتخابات میں ایک بار پھروہی بیانیہ دہرایا جا رہا ہے۔
صنم جاوید اور عالیہ کو دوبارہ سے گرفتار کر کے سرگودھا شفٹ کر دیا گیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے قیدیوں کو ریاست کے جبر سے آزاد کیا جائے۔

مزید پڑھیں:  نگران دور میں خزانے کو اربوں کا نقصان ہوا ،عدنان قادری