پابندی لگانے کا فیصلہ

پاکستان اور ایران کا دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگانے کا فیصلہ

ویب ڈیسک: پاکستان اور ایران نے دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگانے اور جیلوں میں موجود قیدیوں کے جرمانے معاف کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ایرانی ہم منصب ڈاکٹر احمد وحیدی اور ایرانی وزیر قانون امین حسین رحیمی کی ملاقات ہوئی جس میں سیکیورٹی تعاون، انسداد دہشتگردی، اسمگلنگ، بارڈر مینجمنٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستانی زائرین کیلئے سہولتوں اور قیدیوں کے تبادلے سمیت مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایرانی صدر کا دورہ پاکستان دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم ہے، پاکستانی قوم ایرانی صدر اور انکے وفد کا پاکستان آمد پر بھرپور خیر مقدم کرتی ہے۔
اہم ملاقات میں دونوں ملکوں کی جانب سے دہشتگرد تنظیموں پر پابندی لگانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا جبکہ اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے جس سے مل کر ہی نمٹا جاسکتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خاتمے کیلیے باہمی معاونت کو مزید بہتر بنانے اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر بھی گفتگو کی اور دونوں ممالک کے مابین سکیورٹی معاہدے پر بھی جلد از جلد دستخط کرنے جبکہ اربعین کے موقع پر پاکستانی زائرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ اقدامات سے زائرین کو بہترین سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستانی ہم منصب کو ایران کے دورے کی دعوت دی اور بتایا کہ اس موقع پر عراقی ہم منصب کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ محسن نقوی نے دورہ ایران پر ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان اور ایران نے بارڈر مینجمنٹ ، اسمگلنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے تعاون کو بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے دونوں اطراف بارڈر مارکیٹوں کے کو جلد از جلد فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
ایرانی وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے بارڈر کی فینسنگ کے حوالے سے بہترین کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران تعلقات تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بنیاد پر ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہیاور باہمی تعاون کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔

مزید پڑھیں:  باجوڑ، تاجر کے قتل کیخلاف تاجر برادری کا احتجاج، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ