احسن اقبال

رواں سال قرضوں کی ادائیگی کیلئے 8ہزار ارب روپے درکار ہیں،احسن اقبال

ویب ڈیسک: وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال ہم تمام اخراجات ادھار لے کر کر رہے ہیں ،رواں سال ہمیں قرضوں کی ادائیگی کیلئے 8 ہزار ارب روپے درکار ہیں۔
بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے امن، استحکام اور پالیسیز کا تسلسل ضروری ہے اور کم از کم دس سال کا تسلسل ہونا چاہیے، پاکستان میں سیاسی تسلسل قائم نہ ہوا تو دائروں میں گھومتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نو فیصد معاشی گروتھ کے ساتھ 2047 تک تین ہزار ارب ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے، پاکستان میں 2017 کے بعد حکومت کی تبدیلی سے سب سے پہلا نشانہ سی پیک بنا،
ہم خصوصی اقتصادی اور صنعتی زونز میں 30 سے 40 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی توقع کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اگلے تین سال میں 70 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، ہم اگلے سات سے آٹھ سال میں برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے گئے تو ٹیک آف کر جائیں گے تاہم پاکستان برآمدات بڑھانے میں ناکام رہا، حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کر سکتے ہیں، معاشی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، آئیں پاکستان کو تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کیلئے مل کر کام کریں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم تمام اخراجات ادھار لے کر پورا کر رہے ہیں، پینشن کا بجٹ 800 ارب اور حکومتی امور چلانے کا 700 ارب روپے ہے، سبسڈیز کیلئے 900 ارب، دفاعی اخراجات 1800 ارب روپے ہیں، صوبوں کو ٹرانسفرز کی مد میں 1200 ارب روپے کا خرچہ ہے، پاکستان کو برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہم غیر ضروری ریگولیشنز کو ختم کرنا چاہتے ہیں، نجی شعبے کیلئے راستہ کلیئر کرنا ہوگا، پاکستان کا سالانہ ریونیو 7 ہزار ارب روپے ہے، اس سال ہمیں قرضوں کی ادائیگی کیلئے 8 ہزار ارب روپے درکار ہیں، قرضوں کی ادائیگی میں بھی ایک ہزار ارب روپے کا خسارہ ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے اس کے بعد سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان متوقع ہے سعودی عرب جلد پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

مزید پڑھیں:  موسم گرما میں دیسی مشروبات کا استعمال