خیبر پختونخوا کی آبادی

2050تک خیبر پختونخوا کی آبادی 78ملین تک بڑھ جانے کا امکان

ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا میں بہبود آبادی کی جانب سے خواتین کی صحت اور آبادی پر قابو پانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے اعداد و شماری کرتے ہوئے 2050تک خیبر پختونخوا کی آبادی 78 ملین تک بڑھ جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق 2017سے 2023تک آبادی کی شرح میں 2.38فیصد کے تناسب سے اصافہ ہواجبکہ زچگی کے دوران سالانہ اموات کی شرح 28 سے 54 فیصد بڑھی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایک ہزار میں سے 53 بچے ایک سال سے کم عمر میں وفات پا جاتے ہیں جبکہ خوراک کی کمی کے باعث 5 سال کی عمر کے بچوں کی اموات کی شرح 23 فیصد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے 2040تک 15ملین ملازمتیں درکار ،12ہزار مزید پرائمری سکولوں کی ضرورت ہوگی جبکہ اگلے 16 سال کیلئے 2.4ملیں نئے گھروں کی ضرورت ہوگی۔
اعداد و شمار کے مطابق32فیصد بچے سکولوں سے باہرجن میں22 فیصد لڑکے اور 44 فیصد لڑکیاں ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دو سال کے دوران 1143 ایل ایچ ڈبلیوز اور ایل ایچ ایس کو تربیت فراہم کی گئی ، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور صوابی میں چار سکل لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔
صوبہ بھر میں 2 لاکھ 36 ہزار 620 خاندان بہبود آبادی کے منصوبوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،صوبے میں 76 ہزار سے زائد خواتین کو غیر محفوظ اسقاط حمل سے بچایا گیا۔
ڈاکٹر اکرام اللہ نے بتایا کہ مہینے میں 13دن فیملی ہیلتھ ڈیز کے طور پر منائے جاتے ہیںہیلتھ ڈے کے موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں خواتین معائنے کے لئے مراکز میں آتی ہیں۔

مزید پڑھیں:  آئی ایم ایف پروگرام :پیشگی اقدامات پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط