میاں افتخار حسین

8فروری کے عام انتخابات دھاندلی زدہ تھے ،میاں افتخار حسین

ویب ڈیسک: عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں اس پر متفق ہیں کہ 8فروری کے عام انتخابات دھاندلی زدہ تھے ۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ پیسوں کے بل بوتے پر لوگوں کو منتخب نہیں کیا جاتا،عوامی رائے پر منتخب کیا جاتا ہے،انتخابات میں ہارنے اور جیتنے والے دونوں سے پیسے لئے گئے ،مضبوط جمہوریت ہی معاشی پالیسی کو درست کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مزدور ابن مزدور ہیں ان مزدوروں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قربانی دیں،ہم باچا خان کی سوچ و فکر کو گلی گلی تک پہنچائیں گے۔
پارٹی انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صوبائی صدر اے این پی کا کہنا تھا کہ پانچ مئی کو مرکزی انتخابات باچا خان مرکز میں ہونگے۔
میاں افتخار کا کہنا تھا کہ بارشوں سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے حکومتی سطح پر ان علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کبھی ختم نہیں ہوئی ،چالیس سال سے کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے،امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر بگڑ چکی ہے،دہشتگرد جب چاہیں کسی کو اٹھا لیں،حکومت پیسے دیکر لوگوں کو چھڑائے گی تو امن قائم نہیں ہوگا۔
میاں افتخار کا کہنا تھا کہ حکومت کے ارادے پکے ہوں تو دہشت گردی روکنے کے لئے 20نکاتی ایجنڈے پر فوری طور پر عملدرآمدیقینی بنائے،متفقہ ایجنڈے میں اگر کمی ہے ردوبدل کیا جاسکتا ہے اگر نہیں تو عمل کریں،دہشتگردی کے حوالے سے ہمیں سخت تحفظات ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم باہر نہ نکلیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن انجینئرڈتھے،ہم یہ نہیں کہتے اکثریت نہیں ہوگی لیکن یہ تو ہوا نہیں نہ ہوسکتا ہے،یہ کیسے ممکن کہ یک طرفہ ٹریفک چلے،پنجاب کو مرکزی اور صوبائی سطح پر بچانے کے لئے پختونخوا کو قربان کیا گیا
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ناجائز طریقے سے عوام کو استعمال کرتی ہے،آئی ایم ایف کی شرائط حکومتی ناکامی کی وجہ سے ہے،عوام کی وجہ سے نہیںپاکستان میں چالیس لاکھ امیروں کا ٹیکس نیٹ نہیں بڑھ سکا۔
آئی ایم ایف غریب سے نہیں امیر سے ٹیکس لینے کی بات کرتا ہے،جاگیرداروں کی حکومت عوام سے پیسہ اکٹھا کرے گی جبکہ امیروں کے سامنے بس ہے ۔

مزید پڑھیں:  مونا خان کے یونان داخلے پر 5سال کی پابندی لگا دی گئی