پشاور ہائیکورٹ: مشعال یوسفزئی کے لائسنس معطلی پر فریقین سے کمنٹس طلب

ویب ڈیسک: وزیراعلی کی مشیر مشعال یوسفزئی کے لائسنس معطل کرنے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
اس دوران مشعال یوسفزئی کے لائسنس معطلی پر فریقین سے جواب طلب کر کے سماعت 14 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مشعال ہوسفزئی کے لائسنسن معطلی کے خلاف دائر درخواست پر کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت وکیل درخواست گزار قاضی انور ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 3 جنوری کو عالمزیب ایڈوکیٹ کو پولیس نے ہائیکورٹ گیٹ پر زدکوب کیا۔ مشال یوسفزئی بھی وہاں موجود تھیں اور انہوں نے واقعہ پر پوسٹ کیا۔
سینئر قانون دان قاضی انور ایڈوکیٹ نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا بار کونسل نے پوسٹ کرنے پر مشعال یوسفزئی کا لائسنس معطل کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ چیئرمین خیبرپختونخوا بار کونسل نے ان کا لائسنس بحال کیا تو بار کونسل نے پاکستان بار کونسل کو درخواست دی جس پر پاکستان بار کونسل نے مشعال یوسفزئی کا لائسنس معطل کیا۔
چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ ویسے جو یہ الفاظ ہیں کیا یہ وکیل کو زیب دیتے ہیں۔؟
اس پر قاضی انور ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ بالکل یہ الفاظ مناسب نہیں تھے۔ میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔
چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے پوچھا کہ کمنٹس کس سے طلب کریں۔ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ فریق اول اور دوئم سے کمنٹس طلب کئے جائیں۔
بعد ازاں عدالت نے فریقین سے کمنٹس طلب کرتے ہوئے سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں:  لوئر دیر، خصوصی بچوں کے تعلیم و بحالی سنٹرز شدید مالی بحران کا شکار