جمہوری لوگ ہیں،گورنر راج نہیں چاہتے:فیصل کریم کنڈی

ویب ڈیسک: گورنر خیبرپختونخواگورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پوری کوشش ہوگی کہ گورنر ہاؤس کبھی کسی سازش کا حصہ نہ بنے، ہم جمہوری لوگ ہیں نہیں چاہتے کہ صوبے میں گورنر راج لگے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کوئی اگر سیاسی طور پر شہید بننا چاہتا ہے تو ایسا نہیں ہونے دوں گا، اپنی نااہلی اور نالائقی چھپانے کے لیے ہمیں ڈھال نہ بنایا جائے۔
نہیں چاہوں گا کہ گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی وجہ سے عوام متاثر ہوں، علی امین گنڈاپور جس طرز سے چل رہے ہیں کہیں جیالا وزیراعلیٰ نہ آجائے، ہم جمہوری لوگ ہیں نہیں چاہتے کہ صوبے میں گورنر راج لگے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ریاست ہر اس شخص سے بات کرنے کو تیار ہے جو آئین اور قانون کو مانتا ہے لیکن آئین و قانون کو نہ ماننے والے سے بات نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہے جج اغواہوا، ماضی میں جو حصہ خیبرپختونخوا کو ملنا تھا وہ نہیں مل سکا، صوبائی حکومت سے کہوں گا پانی کے معاملے پر مل کر کام کریں۔
میں نے ہمیشہ یہ بات کی خیبرپختونخوا کا مقدمہ وفاق میں لڑنا چاہتا ہوں، اس کے لیے ہر سیاسی جماعت کے صوبائی صدر سے ملوں گا اور وفاق کے سامنے اپنے مسائل رکھے جائیں گے، پانی، بجلی اور گیس ہمارے سب سے اہم مسائل ہیں، ان پر وفاق سے بات کی جائے گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پوری کوشش ہوگی اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کرسکوں، پارٹی اور صوبے کے عوام کے اعتماد پر پورا اتروں گا، پوری کوشش ہوگی کہ گورنر ہاؤس کبھی کسی سازش کا حصہ نہ بنے، اپنے صوبے کا وکیل بن کر وفاق سے زیادہ سے زیادہ فنڈز لائوں گا، میں چاہتا ہوں کہ مرکز سے زیادہ سے زیادہ فنڈز لے کر آں تاکہ یہاں پر تعمیر و ترقی ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے، ڈی آئی خان سے جج کا اغوا ہوا، اس کے علاوہ کسٹم اہلکاروں کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا، خیبرپختونخوا میں امن و امان کنٹرول کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے ۔
گورنر کا مزید کہنا تھا کہ قیام امن کے لیے صوبائی حکومت کو مرکز سے جو سپورٹ چاہیئے ہوگی ضرور دلواؤں گا، ڈی آئی خان میں لوڈشیڈنگ کا بڑا مسئلہ ہے، اس کو زیرو پر لائیں گے، پوری کوشش ہوگی کہ عوام کو تبدیلی نظرآئے۔

مزید پڑھیں:  جلاؤ گھیراؤکیس، علی امین گنڈاپور کی عبوری ضمانت میں توسیع، استثنیٰ بھی منظور