اداروں کی درجہ بندی

ریاستی ملکیتی اداروں کی درجہ بندی کیلئے تجاویزطلب

ویب ڈیسک: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے متعلقہ وزارتوں سے 20مئی تک متعلقہ ریاستی ملکیتی کاروباری اداروں کی درجہ بندی کے لئے تجاویز طلب کر لی ہیں ۔
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی کاروباری اداروں کے اجلاس میں ایس او ایز پالیسی 2023پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیرخزانہ کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی کاروباری اداروں کے اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ایس او ایز میں مالی اور آپریشنل کارکردگی کا متواتر جائزہ لیا گیا۔
متعلقہ وزارتوں سے 20مئی تک متعلقہ اسٹیٹ اونڈ انٹر پرائز کی درجہ بندی کیلئے تجاویزپیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ سرکاری شعبے میں صرف ضروری کاموں کو برقرار رکھا جائے، باقی کام نجی شعبے کے حوالے کیا جائے۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ وہ ادارے جو سرکاری شعبے کے پاس ہیں انہیں زیادہ مسابقتی اور جوابدہ بنایا جائے، سرکاری اداروں کو شہریوں کی ضروریات کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔
فنانس ڈویژن کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کا وفاقی ایس او ایز کی سالانہ مالیاتی رپورٹ پر جاری کام کا جائزہ پیش کیا گیا جس میں ڈی جی سینٹرل مانٹرنگ یونٹ نے بتایاکہ تمام تجارتی اداروں کا ڈیٹا حاصل کرلیاگیا ہے۔
کمیٹی کو رپورٹنگ کی مدت کے دوران ایس او ایز کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور کمپنیوں کی گورننس اور مالیاتی انتظام میں موجود متعددخامیاں دور کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ بی او ڈیز کی خالی آسامیاں بلاتاخیر پر کی جائیں، جن کمپنیوں کے اکانٹس کا آزادانہ آڈٹ نہیں کرایا گیا وہ فوری آڈٹ مکمل کریں، بہترکارکردگی کے لیے ایس او ایز کی تنظیم نو، نجکاری کے ایجنڈے کو تیزکیاجائے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ ایس او ایز پالیسی رپورٹ کو حتمی شکل دے اور اسے شائع کرے، سرکاری اداروں کے اندر شفافیت،کارکردگی اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جائے، اس کے علاوہ وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنایا جائے۔

مزید پڑھیں:  رفح اور غزہ میں صیہونیوں کی وحشیانہ بمباری، مزیر 75 فلسطینی شہید