دبئی پراپرٹی لیکس میں‌بھی پاکستانی سیاستدانوں کے نام نکل آئے

ویب ڈیسک: دبئی میں 389 ارب ڈالرز کی پراپرٹی لیکس منظر عام پر آ گئی جس میں پاکستانیوں کی پراپرٹیز کا بھی انکشاف ہوا ہے جو کہ مجموعی لیکس کا 2 اعشاریہ 5 فیصد بنتا ہے۔
ان میں پاکستانی سیاست دانوں کے نام بھی لئے جا رہے ہیں جبکہ بعض سیاستدانوں کے رشتہ دار بھی ہیں۔ ان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی اہلیہ، سینیٹر فیصل واوڈا، شرجیل میمن اور ان کی اہلیہ کا نام بھی شامل ہے۔
دبئی پراپرٹی لیکس میں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز اور آصف علی زرداری کے تینوں بچوں کے نام بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق دبئی میں 389 ارب ڈالرز کی پراپرٹی لیکس منظر عام پر آئی ہیں جن میں پاکستانیوں کی پراپرٹیز کا انکشاف ہوا ہے جو کہ مجموعی لیکس کا 2 اعشاریہ 5 فیصد بنتا ہے۔
دبئی پراپرٹی لیکس میں انکشاف ہوا ہے کہ ان میں‌پاکستانیوں کی پراپرٹیز کی قیمت 11 ارب ڈالر بنتی ہے۔
یاد رہے کہ دبئی میں جائیدادیں خریدنے والے غیرملکیوں میں پاکستانیوں کا دوسرے نمبر پر ہے جن میں سیاسی شخصیات کے نام بھی شامل ہیں۔
ان سیاسی شخصیات میں سندھ کے 4 ارکان قومی اسمبلی، بلوچستان اور سندھ کے 6 سے زائد ارکان صوبائی اسمبلی کے نام بھی پراپرٹی لیکس میں لئے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ دبئی پراپرٹی لیکس پروپیگنڈا مہم ہے اس کی ٹائمنگ پر اعتراض ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی بھی فردکا پراپرٹی لیکس میں کوئی ذکر نہیں۔ دبئی ہمارا دوست ملک وہاں سرمایہ کاری متوقع ہے۔ پاکستان میں عالمی سرمایہ کاری جب بھی متوقع ہوتی ہے لیکس آ جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فیصل واوڈا کی جانب سے جاری پیغام میں سوال کیا گیا ہے کہ آنے والی اس مہم کا ہدف ایس آئی ایف سی اور دوست ملکوں کی سرمایہ کاری ہے؟

مزید پڑھیں:  بجٹ 2024، ایف بی آر کا ٹیکس ہدف12ہزار400ارب رکھنے کی تجویز