بجلی پیدا کرنے کے باوحود مالاکنڈ کے عوام اس سہولت سے محروم ہیں، سلیم الرحمان

ویب ڈیسک: مالاکنڈ کے بجلی گھروں سے ملک بھر کو بجلی فراہمی کی جاتی ہے اس کے باوجود مالاکنڈ کے عوام اس سہولت سے محروم ہیں۔ مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کا نفاذ مسترد کرتے ہیں۔ جو لوگ ملاکنڈ میں ٹیکس لگانے کی بات کرتے ہیں وہ ہمیں بتائیں کہ ان پہاڑوں میں عوام کو روزگار کے کون سے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار ضلع سوات سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ منتخب رکن قومی اسمبلی سلیم الرحمان نے مشرق ٹی وی کے پروگرام مشرق راونڈ اپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مشرق راونڈ اپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح گدون انڈسٹریل ایریا کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا تھا کہ یہاں بہت کارخانے ہیں، ان کو مراعات دی جاتی ہیں۔ اس پراپیگنڈے نے گدون انڈسٹریل سٹیٹ کو کھنڈرات میں بدل ڈالا ۔
انہوں نے کہا کہ اب اسی طرح مالاکنڈ ڈویژن کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ یہاں ملز ہیں، ان پر ٹیکس لگائے جائیں تاکہ ملک کو فائدہ ہو۔ حالانکہ ایسا کچھ نہیں۔
انہوں نے نوٹس کراتے ہوئے بتایا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں کارخانے اور روزگار کہاں ہیں۔ یہاں تو ایک طرف دہشتگردی دوسری طرف سیلاب ہے۔
رکن قومی اسمبلی سلیم الرحمان نے بتایا کہ یہاں آمدن کا زیادہ دار و مدار سیاحت پر ہے اور اس کا بھی سیلاب کی وجہ سے برا حال ہے کیونکہ سیلاب سے سڑکیں اور پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو جاتا ہے اور اسے واپس ٹریک پر لانےمیں کافی وقت لگتا ہے۔
رکن قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ مالاکنڈ میں ٹیکس لگانے کی بات کرتے ہیں وہ بتائیں کہ ان پہاڑوں میں عوام کو روزگار کے کونسے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں توجہ دلاو نوٹس جمع کرایا ہے جس پر وزیرخزانہ نے مالاکںڈ ڈویژن کے ارکان قومی اسمبلی کا نمائندہ وفد بنانے کی ہدایت کی ہے۔
رکن قومی اسمبلی سلیم الرحمان نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں سٹیل ملز کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو حکومت ان کارخانوں سے ٹیکس وصولی کیلیے اقدامات کرے۔
ان کارخانوں سے عوام کو فائدہ تو کوئی نہیں، یہ بس صرف علاقے میں آلودگی پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہیں۔
بجلی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں رکن قومی اسمبلی سلیم الرحمان کا کہنا تھا کہ مالاکنڈ کے بجلی گھر پورے پاکستان کو بجلی فراہم کرتے ہیں مگر یہاں کے عوام کو بجلی فراہم نہیں کی جاتی۔
سلیم الرحمان نے کہا کہ سابق صوبائی حکومتوں میں وفاق سے بجلی بقایاجات میں فنڈز وصول کیے گئے تھے اور اب بھی صوبے کے بقایاجات وصول کر کے دکھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نا صرف مالاکنڈ ڈویژن بلکہ سابقہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس کا نفاذ روکنے کیلے بھی اپنی پوری کوشش کریںگے۔

مزید پڑھیں:  صوابی، مویشی منڈی سج گئی، لائیو سٹاک اہلکار جانوروں کی چیکنگ سے غافل