حکومت وعدے ایفا کرے، مالاکنڈ کے عوام پر ٹیکس کا نفاذ زیادتی ہے، جنید اکبر خان

ویب ڈیسک: حلقہ این اے 9 مالاکنڈ سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ منتخب رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے مشرق ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ ملک بغیر ٹیکس کے نہیں چل سکتا لیکن اس کے بھی کچھ قائدے ہوتے ہیں۔ وہ علاقے جہاں سہولیات نہ دی گئی ہوں وہاں ٹیکس کا نفاذ زیادتی ہے.
انہوں نے کہا کہ یہاں ضلع مالاکنڈ کی بات کی جائے تو مالاکنڈ ڈویژن کی حیثیت پاکستان کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے۔
مالاکنڈ سے مسلسل تیسری بار منتخب رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان بننے سے پہلے یہاں تین ریاستیں، بونیر، سوات اور دیر ہوا کرتی تھیں۔
جب یہ ریاستیں پاکستان کا حصہ بنیں تو اس وقت ان کے ساتھ کچھ معاہدے کیے گئے۔ اسی طرح 25 ویں آئینی ترمیم میں ہمارے ساتھ کچھ وعدے کیے گئے جسے عملی جامہ پہنانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کے نوجوان بیرون ممالک روزگار کمانے اور محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ جب حالت یہ ہو تو ایسے میں ممکن نہیں کہ ٹیکس ادا کر سکیں۔ ان حالات میں سرکار کو بھی چاہئے کہ عوام پر ٹیکس نہ لگائے۔
جنید اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے عوام اور تمام منتخب نمائندوں سمیت حکومت اور اپوزیشن ایک پیچ پر ہیں اور امید ہے کہ ہمیں اس ٹیکس سے مزید 5 سال کیلئے چھوٹ مل جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں جنید اکبر خان نے کہا کہ مالاکنڈ میں سٹیل ملز کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو یہاں اتنے بھی زیادہ کارخانے نہیں کہ لوگوں کو روزگار دلا سکیں۔ لیکن اگر پھر بھی حکومت کو تحفظات ہیں تو اس کیلیے ادارے موجود ہیں وہ اپنا کام کریں۔
ممبر قومی اسمبلی نے کہا کہ ان کارخانوں سے نکلنے والی آلودگی روکنے کیلیے بھی ادارے موجود ہیں انہیں بھی اپنا کام کرنا چاہیے۔
جنید اکبر خان نے کہا کہ ہم حکومت میں نہیں اپوزیشن میں ہیں مگر ہم پوری کوشش کریںگے کہ ٹیکس کےنفاذ میں مزید 5 سال چھوٹ دی جائے۔

مزید پڑھیں:  لنڈی کوتل، شہید صحافی خلیل جبران کے قاتلوں کو نشان عبرت بنائیں گے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف