اعظم نذیر تارڑ

احمد فرہاداغواء کیس میں عدالتی ریمارکس پر حیرت ہے ،اعظم نذیر تارڑ

ویب ڈیسک: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ احمد فرہاد کا اغوا سنجیدہ معاملہ ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس پر حیرت اور تکلیف ہوئی ،وقت سے پہلے اتنی سخت باتیں ایک سانس میں کہہ دینا جوڈیشری کے مطابق نہیں ۔
پریس کانفرنس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کہا گیا سیکرٹریزمطمئن نہیں کریں گے تو وزیراعظم اور پوری کابینہ کو یہاں بٹھائیں گے، یہ طریقہ ہمیشہ غیرمناسب رہا ہے، عدالتی معاملات آئین کے مطابق حل ہونے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن کے حوالے سے سکے کے دونوں رخ دیکھنے چاہئیں، آج پاکستان کو دہشت گردی کے چیلنجز کا سامنا ہے، افواج پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بیپناہ قربانیاں دی ہیں، یہ وقت سب کو اکٹھے بیٹھ کر ملک کو آگے لے جانے کا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہرملک میں واقعات ہوتے ہیں، ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرے، یہی آئین و قانون کی منشا ہے، سیاست دان، سرکاری افسران، عدلیہ سمیت سب تحمل کا مظاہرہ کریں، ہم سب نے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہے، منصف تو تحمل مزاج ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ شاعر احمد فرہاد کی گمشدگی کا معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے، تاثر دیا جا رہا ہے کہ اداروں میں ٹکرائو ہے، اگر وزیراعظم اور کابینہ کو سامنے بٹھا دیا جائے گا تو یہ غیرمناسب باتیں ہیں، ججز کا اپنا کوڈ آف کنڈکٹ ہے، اگر عسکری، دفاعی، وزیراعظم اور کابینہ کے کام کورٹ روم میں چلیں گے تو پھر نظام کیسے چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن کا مسئلہ آج کا نہیں چاردہائیوں کا مسئلہ ہے، شاعر کا اغوا سنجیدہ معاملہ ہے، کارروائی سنجیدگی سے آگے بڑھائی جائے، افواج پاکستان اپنی حدود میں رہ کر ہی کام کرتی ہیں، اچھا ہوکہ صرف تحریری حکم جاری کر دیا جائے، عدالتیں حکم ضرور جاری کریں مگر جس طرح باتیں کی جاتی ہیں اس سے دکھ ہوتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ لوگوں کو تلاش کر کے سامنے لانا یہ پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے، تفتیش میں حقائق کی بنیاد پر آگے چلا جائے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیز تقریریں بھی پھیلتی ہیں، ہتک عزت بل جب کابینہ کے سامنے پیش ہوا تو کچھ حلقوں کی جانب سے بل پر تنقید کی گئی، وزیراعظم نے سپیشل کمیٹی قائم کر دی، رانا ثنا اللہ خصوصی کمیٹی کے کنوینئر ہوں گے۔

مزید پڑھیں:  اسرائیلی فضائی بمباری سے مزید 46 فلسطینی شہید، متعدد زخمی