خیبرپختونخوا کا بجٹ

خیبرپختونخوا کا بجٹ پیش:تنخواہوں اورپنشن میں اضافہ،مزدورکی اجرت36ہزارمقرر

ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال 2024-25کا بجٹ پیش کردیا گیا ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافہ ، مزدور کی کم از کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر36 ہزارمقرر کردی گئی۔
بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 15 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کی صدارت اسپیکر بابر سلیم سواتی کر رہے تھے۔
وزیرخزانہ خیبر پختونخوا آفتاب عالم نے بجٹ پیش کیا، اس موقع پر وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور ایوان بھی میں موجود تھے۔
وزیرخزانہ خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے بتایا کہ کل محصولات 1754ارب روپے ہیں جبکہ کل اخراجات 1654ارب روپے ہیں، بجٹ 100 ارب روپے سرپلس ہے۔
وزیرخزانہ کے مطابق تعلیم کے لیے کل 362 ارب 68 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ، تعلیم کے اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں، اعلی تعلیم کیلئے 35 ارب 82 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 30 ڈگری کالجز کرائے کی عمارتوں میں قائم کرنے کا منصوبہ ہے، وفاقی ٹیکس محصولات 902 ارب51 کروڑ روپے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے قابل تقسیم محاصل کا 1 فیصد 108 ارب 44 کروڑ روپے ہے، تیل و گیس کی رائیلٹیز اور سرچارج کی مد میں براہ راست منتقلی 42 ارب96 کروڑ روپے ہے، ونڈ فال لیوی آن آئل 46ارب83 کروڑ روپے ہے جبکہ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں محصولات ” موجودہ سال” 33 ارب 10 کروڑ روپے ہیں۔
آفتاب عالم نے بتایا کہ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں محصولات ” بقایاجات”78 ارب 21 کروڑ روپے ہے، مجموعی طور پر محصولات 1212 ارب 40 لاکھ روپے ہیں۔
وزیرخزانہ خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ضم اضلاع کا سالانہ حصہ 262 ارب روپے بنتا ہے، صوبے کو 262 میں سے صرف 123 ارب روپے ملے ہیں، خیبرپختونخوا کو 139 ارب روپے کے سالانہ خسارے کا سامنا ہے، ہر سال صوبہ کو واجب الادا رقم اپنے حصہ کے مقابلہ میں کم ملتی ہے۔
وزیرخزانہ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہوٹلوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 6 فیصد کر دی گئی ہے، ریسٹورنٹ انوائس منیجمنٹ سسٹم کا استعمال تمام ہوٹلوں کیلئے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شادی ہالوں کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس ریٹ متعارف کرنے کی تجویز ہے جبکہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں بڑا ریلیف دیا جا رہا ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس 2.5 روپے فی مربع فٹ ہے جو 10 ہزار 600 روپے فی کنال بنتا ہے۔اس ٹیکس کم کو کم کر کے 10 ہزار روپے فی کنال کرنے کی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ریونیو موبیلائزیشن پلان کے تحت 93.50 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، آمدن بڑھانے کیلئے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، ٹیکس کی مد میں کئی اصلاحاتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
وزیرخزانہ خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے بتایا کہ کمرشل پراپرٹی پر ٹیکس ماہانہ کرایہ کا 16 فیصد سیکم کرکے 10 فیصد کرنے کی تجویز ہے جبکہ شعبہ صحت سے منسلک کاروباروں پر ٹیکس 16 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کیا جارہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بھاری وفاقی ٹیکس کے باعث لوگ جائیداد کی منتقلی کیلئے اسٹامپ پیپر استعمال کرتے ہیں، جائیداد منتقلی پر صوبائی ٹیکسز کو 6.5 فیصد سے کم کرکے 3.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے عوام کو جائیداد کی منتقلی پر 3 فیصد ٹیکس ریلیف ملے گا۔
وزیرخزانہ کے مطابق صحت کے شعبے کیلئے 232 ارب 80 لاکھ روپے مختص کیے گئے، صحت کے اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ کے پی میں ترقیاتی بجٹ کے تحت ائیر ایمبولنس سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے، جنوبی اضلاع کیلئے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے اسٹیلائٹ مرکز کا قیام عمل میں لائے جائے گا،نجی شعبہ کی شراکت سے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کا قیام بھی ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ادویات کی خریداری 10 ارب 97 کروڑ روپے مختص کیے گئے، صحت کارڈ پلس کا کل بجٹ 28 ارب روپے بندوبستی اضلاع اور ضم اضلاع کیلئے 9 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ صوبہ میں امن و امان کی بہتری کیلئے اس سال کل 140 ارب 62 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔امن و امان کے اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہیں، داخلہ امور کے شعبے میں پی ای ایچ ایل 911 کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔
وزیرخزانہ خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے بتایا کہ سماجی بہبود کیلئے 8 ارب 11 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے سماجی بہبود کے اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہیں، ضم اضلاع کیلئے پناہ گاہوں کے بجٹ کو 30 کروڑ روپے سے بڑھا کر 60 کروڑ کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:  حکومت کی ساکھ نہ ہو تو لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر رہنا پسند کرتے ہیں، تیمور جھگڑا