ایم کیو ایم

ایم کیو ایم نے ہتک عزت بل فوری واپس لینے کا مطالبہ کردیا

ویب ڈیسک: ایم کیو ایم پاکستان نے ہتک عزت بل کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل پرمتعلقہ تنظیموں کو اعتماد میں نہ لینے سے بداعتمادی اور تحفظات نے جنم لیا ہے ۔
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان سے خالد مقبول صدیقی سے پاکستان کی مختلف صحافتی تنظیموں کے عہدیداران نے بہادرآباد آفس میں ملاقات کی۔
ترجمان ایم کیو ایم نے بتایا کہ صحافتی تنظیموں کے عہدیداران نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو ہتک عزت بل، الیکٹرانک کرائم بل کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، ایم ایم کیو ایم پاکستان کسی بھی قانون یا معاملے میں شفافیت اور مشاورت کا پہلو نمایاں دیکھنا چاہتی ہے۔
ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پاس ہونے والے ہتک عزت بل پرمتعلقہ تنظیموں کو اعتماد میں نہ لینا بداعتمادی اور تحفظات کو جنم دے دیا ہے، کسی قانون سے اختلاف نہیں ہے البتہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ملاکر موجودہ قانون میں ترمیم کے ساتھ قابل عمل بنائیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ہتک عزت بل کو فی الفور واپس لے کر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا جانا چاہئے، مضبوط معاشروں میں مضبوط لوگوں کیلئے قانون سازی کی جاتی ہے، کمزور معاشروں میں کمزوروں کیلئے قانون بنتے ہیں، ایسے قانون کے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے جو اشرافیہ کو تحفظ فراہم کرتا ہو اور کمزور کی گردن تک آتا ہو۔
ترجمان ایم کیو ایم نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے صحافتی وفد کوان کے جائز مطالبات کی حمایت کی یقین دہانی کروادی۔

مزید پڑھیں:  حماس ایک نظریے کا نام ہے جسے ہرایا نہیں جا سکتا، ترجمان اسرائیلی فوج