حماس

مستقل جنگ بندی :حماس نے امریکی صدر کی تجاویز کو مثبت قرار دیا

ویب ڈیسک: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے پیش کردہ تجاویز کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تجویز پر مثبت اور تعمیری انداز میں عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے پیش کیا گیا مجوزہ جنگ بندی معاہدہ جس میں ‘اسرائیلی افواج کا انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہیں کو ہم مثبت سمجھتے ہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی تجویز پر مثبت اور تعمیری انداز میں عمل درآمد کے لیے تیار ہے جس سے غزہ کی تعمیر نو ہوسکے اور بے گھر افراد کی اپنے گھروں میں واپسی ممکن ہوسکے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل حماس جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔
امریکی صدر نیگزشتہ روز وائٹ ہاس میں خطاب کرتے ہوئیکہا تھا کہ یہ معاہدہ دراصل اسرائیل کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور اسے ثالثوں کے ذریعے حماس تک پہنچا دیا گیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ تنازع کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ ہے، مجوزہ منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے،۔
پہلا مرحلہ 6ہفتے تک ابتدائی جنگ بندی کا ہے، اس دوران اسرائیلی فوجیں غزہ سے نکل جائیں گی، یرغمالیوں اور سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہوگا۔
فلسطینی شہری غزہ واپس جائیں گے اور غزہ میں روزانہ 600 ٹرک امداد لے کر آئیں گے۔
امریکی صدر کے مطابق دوسرے مرحلے میں حماس اور اسرائیل جنگ کے مستقل خاتمے کی شرائط پر بات چیت کریں گے اور تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیرِ نو ہوگی۔

مزید پڑھیں:  پاکستانی باکسر محمد وسیم نے عالمی رینکنگ فائٹ میں فتح حاصل کرلی