غزہ میں قحط، وبائی امراض اور سردی، فلسطینیوں کی مشکلات بڑھنے لگیں

ویب ڈیسک: اسرائیلی افواج کی وحشیانہ بمباری اور زمینی کارروائی کی وجہ سے غزہ میں حالات انتہائی سنگین ہو گئے ہیں۔
غزہ میں قحط، وبائی امراض اور سردی کی وجہ سے فلسطینیوں کی مشکلات بڑھنے لگیں۔
تمام تر امدادی سامان راستے بند ہونے کی وجہ سے غزہ میں قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے تاہم سامان سے بھرے سینکڑوں ٹرک سرحد پر اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب اجازت ملے گی۔
ایک طرف قحط، غذائیت کی کمی اور طبی مسائل ہیں جبکہ دوسری جانب سردی سے بچنے کیلئے پناہ گاہوں میں کوئی بندوبست نہیں۔
غزہ اور آس پاس کے علاقوں میں فلسطینی اسرائیلی بمباری سے شہید ہو رہے تھے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بھوک ، پیاس اور سردی سے بھی قیمتی جانیں ضائع ہونے لگی ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق غزہ میں وبائِی امراض پھوٹ پڑے ہیں جس سے ایک اندازے کے مطابق 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ 60 ہزار سے زائد حاملہ خواتین سمیت 7 لاکھ سے زائد بچے غذائیت اور پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ ایسے میں طبی سہولیات کی کمی نے صورتحال مزید پیچیدہ کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق دیر البلاح میں پناہ گزین بچوں کیلئَے کوئی ایسی سہولت میسر نہیں جس سے وہ خود کو گرم رکھ سکیں اس مقصد کیلئَے پناہ گزین فلسطینیوں کو کتابیں جلانا پڑ رہی ہیں، ایسے میں‌فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
کتابیں جلانے والے بچوں نے خود اس اقدام کو غیر مناسب کہا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ان کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں۔

مزید پڑھیں:  ٹیکس کیسز میں التوا پر وزیراعظم برہم، متعلقہ افسران معطل، انکوائری کا حکم