عدت میں نکاح کیس، خاور مانیکا کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

ویب ڈیسک: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عدت میں نکاح کیس کی سزا کے خلاف بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ اس دوران خاور مانیکا نے جج شاہ رخ ارجمند سے کہا کہ میرے خاندان کو تباہ کر دیا گیا، مجھے نہیں لگتا کہ مجھے انصاف ملے گا۔ اس دوران انہوں نے جج سے کیس ٹرانسفر کرنے کی استدعا کی۔
دوران سماعت جج شاہ رخ ارجمند نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے یہ کیسے سوچ لیا؟ عدالت میں ہوں آپ بتائیں مجھ پر کیا الزام ہے؟ 21 سالہ کیریئر میں پہلی بار مجھ پر اعتراض ہوا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے فاضل جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ پر پریشر ڈالنے کی کوشش ہے۔ خاور مانیکا انتہا کا جھوٹا ہے۔
جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ جب کوئی پارٹی کیس کے بعد باہر نکلتی ہے تو کہتی ہے کہ جج نے پیسے لے لیے، اپیل کی ایک سٹیج ہوتی ہے، میں کسی اور کو کیس ٹرانسفر نہیں کر سکتا، آپ کتنے جج تبدیل کریں گے، کیس ہارنے کے بعد سب یہی کہتے ہیں۔
عدت میں نکاح کیس کی سماعت کے دوران خاور مانیکا اور پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
پی ٹی آئی کے وکیل عثمان ریاض گل نے کہا کہ 90 فیصد اپیلوں پر سماعت ہو چکی ہے، کوئی تھریٹ ہے شکایت کنندہ کو تو متعلقہ فورم سے رابطہ کریں۔
بعدازاں عدالت نے خاور مانیکا کی عدم اعتماد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مزید پڑھیں:  وزیراعلی خیبرپختونخوا اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات، لوڈ شیڈنگ زیر بحث