عدت نکاح کیس:فیصلہ نہ سنایاجاسکا،دوسری عدالت منتقلی کی درخواست

ویب ڈیسک: عدت نکاح کیس کا محفوظ فیصلہ نہ سنایا جا سکا، کیس کی دوسری عدالت منتقلی کی درخواست۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈسیشن کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر محفوظ فیصلہ آج سنایا جانا تھا تاہم جج شاہ رخ ارجمند فیصلہ سنائے بغیر چلے گئے۔
کیس کی سماعت کے دوران جج شاہ رخ ارجمند نے استفسدار کیا کہ سرکاری وکیل رضوان عباسی آئے ہیں یا نہیں؟ جس پر معاون وکیل نے بتایا کہ رضوان عباسی سپریم کورٹ میں ہیں، تھوڑا وقت دے دیں۔
بعدازاں وکیل رضوان عباسی مقررہ وقت پر بھی عدالت نہ پہنچے تو سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیئے کہ رضوان عباسی سے مشاورت کر کے بتادیں کہ آپ چاہتے کیا ہیں۔
خاورمانیکا کے معاون وکیل نے سیشن جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کیس کسی اور عدالت میں ٹرانسفر کر دیں۔
اس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ عدم اعتماد کی درخواست پہلے بھی خارج ہو چکی ہے، جو بتانا ہے اپنے وکیل کو بتا دیں۔
دوران سماعت کمرہ عدالت میں شور ہونے پر سیشن جج شاہ رخ ارجمند کیس کا فیصلہ سنائے بغیر اپنے چیمبر میں چلے گئے۔
بعد ازاں سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے رجسٹرار اسلام باد ہائیکورٹ کو خط لکھا جس میں انہوں نے دوران عدت نکاح کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا کر دی۔
انہوں نے اپنی درخواست میں مزید لکھا ہے کہ خاور مانیکا کی عدم اعتماد کی پہلی درخواست خارج کی جا چکی ہے تاہم خاورمانیکا کی جانب سے دوبارہ عدم اعتماد کے اظہار کے بعد اپیلوں پر فیصلہ سنانا درست نہ ہو گا۔ اس لئے ان اپیلوں کو دیگر کسی عدالت میں ٹرانسفر کرنے کی درخواست ہے۔
سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے رجسٹرار اسلام آباد کو لکھے گئے خط میں وضاحت کی کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر تھیں لیکن خاورمانیکا اور ان کے وکلا نے ہمیشہ سماعت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں:  بجٹ مشن، شہبازشریف کی بلاول بھٹوکوتحفظات دورکرنیکی یقین دہانی