مذاکرات کامیاب

مذاکرات کامیاب ،سرکاری ملازمین نے احتجاج ختم کردیا

ویب ڈیسک: سرکاری ملازمین اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو گئے ،احتجاجی ملازمین نے احتجاج ختم کردیا ۔
حکومت نے مذاکرات کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ وفاقی بجٹ سے مشروط کردیا۔
مذاکرات کی کامیابی کے نتیجے میں تقریباً پانچ گھنٹے کی بندش کے بعد خیبر روڈ کو ٹریفک کے لئے کھول دیاگیا ۔
خیبرپختونخوا حکومت نے احتجاجی سرکاری ملازمین کے نمائندوں کو مذاکرات کے لیے اسمبلی طلب کیا تھا جس کے بعد ملازمین کی چار رکنی کمیٹی اسمبلی مذاکرات کے لیے روانہ ہوگئی تھی ۔
کمیٹی میں صدر آل گورنمنٹ ایمپلائنز گرینڈ الائنس ڈاکٹر ناصرالدین، جنرل سیکرٹری وزیر زادہ، حاجی روئیدار اور خاتون شامل تھے ۔
مذاکرات میں دوسری جانب سے اسپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی اور وزیر خزانہ آفتاب عالم، پولیس افسران، اسسٹنٹ کمشنر مذاکرات شامل تھے۔
مطالبات کے حل کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی کمیٹی کے سربراہ سیکرٹری اسٹبلشمنٹ کو مقرر کردیاگیا۔
کمیٹی میں خزانہ ، صحت ،تعلیم ودیگر محکموں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے ۔
اس موقع پر وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت ملازمین ملازمین کی تنخواہوں میں جتنا اضافہ کرتی ہے اس مناسبت سے فیصلہ کیا جائے گا، ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات پیش کیے جس پر کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں،
وزیراعلیٰ سے رابطہ ہوا ہے کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، صوبائی حکومت نے تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے ہم وفاق سے زیادہ تنخواہ دیں گے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا بھر کے اساتذہ اوردیگر سرکاری اداروں کے ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کے لئے شدید گرمی کے باوجود احتجاج کیا جس پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی ۔
اساتذہ اور دیگر ملازمین نمبر 1اسکول میں جمع ہوئے انتظامیہ نے ملازمین کے احتجاج کے پیش نظر اسمبلی چوک کو ٹریفک کے لیے بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی۔
ٹریفک پولیس نے ٹریفک کو شامی روڈ اور باچہ خان چوک کی طرف منتقل کر دیا جس پر سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، متبادل رستوں پر بھی ٹریفک جام ہوگیا۔
شدید گرمی کے باوجود ملازمین نے احتجاج کیا جن میں خواتین بھی شامل تھیں، احتجاج ختم نہ ہونے پر پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کردیا اور شیلنگ بھی کی۔
اسمبلی چوک بند ہونے سے پورا شہر جگہ جگہ ٹریفک جام کا منظر پیش کرنے لگا شدید گرمی سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔
سرکاری ملازمین بشمول خواتین نے بدستور جی ٹی روڈ پر دھرنا جاری رکھا اور شدید گرمی کے سبب سوری پل کے نیچے پناہ لے لی۔
احتجاج کے باعث ٹریفک کو متبادل راستہ پر موڑ دیا گیا، خیبر روڈ کا ایک حصہ مکمل طور پر سیل کردیا گیا، پولیس اور سیکیورٹی اہل کاروں کی بھاری نفری اسمبلی کے سامنے تعینات رہی، احتجاج میں شامل مظاہرین کا شدید گرمی سے برا حال ہوگیا۔

مزید پڑھیں:  آئی ایم ایف اہداف کے حصول میں خیبرپختونخوا حکومت کی مشروط آمادگی