مصنوعی مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے مکینزم تیار کرلیا،شوکت یوسفزئی

پشاور(مشرق نیوز) خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ جمہوریت کا حسن ہے کہ اپوزیشن عوامی مسائل کو سامنے لائے،حکومت چاہتی ہے کہ مسئلے حل کرے لیکن مشکلات ہوتی ہیں۔ مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے مکینزم تیار کیا ہے وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری کو روانہ کی بنیاد پر اشیائے خورونوش کی قیمتیں فراہم ہو نگی، قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے 83 ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام بنایا ہے ریسکیو 1122 کی اکیڈمی قبائلی ضلع میں بنائی جائے گی قبائلی اضلاع میں کامیاب صوبائی اسمبلی انتخابات میں قبائلی عوام نے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا۔ قبائلی اضلاع کی ترقی پر سالانہ 100 ارب روپے خرچ ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اسلامی پشاور میں ملٹی پارٹیز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کانفرنس میں صحافیوں اور تاجروں کو بلا کر عوامی مسائل سامنے لانا قابل تحسین ہیں حکومت مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فاٹا انضمام سے پہلے بھی کہا جاتا تھا کہ لوگ مایوس ہیں مگر کامیاب اور اچھے انداز میں انضمام ہوا اور پولیس، عدالتوں کا قیام، قبائلی عوام کو صحت انصاف کارڈ کا اجرا، کاروبار کے لئے بلا سود قرضوں کی فراہمی اور بر وقت صوبائی اسمبلی کے انتخابات کو کامیابی سے ممکن بنایا گیا۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے لئے 83 ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام شروع کیا ہیں جس کے ٹینڈرز جاری ہونا شروع ہوگئے۔ مختلف محکموں میں قبائلی اضلاع کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے 17 ہزار آسامیاں پیدا کی جا رہی ہے جس میں 4500 کی منظوری کابینہ سے ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ میں امن و امان کی صورتحال بہترین ہے امن قائم کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور عوام نے قربانیاں دی ہیں جس سے لوگوں کا اعتماد بحال ہوا۔ملک میں بیرونی سرمایہ کاری اور سیاحت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانیہ نے پاکستان کو سیاحت کے لئے موزوں ترین ملک قرار دیا ہے، وزیراعظم عمران خان کی کوششوں سے ملک کی معیشت مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے ہوئے قرضوں کی وجہ سے آئی۔ صوبے میں خوراک کی کوئی قلت نہیں گندم وافر مقدار میں موجود ہے مصنوعی مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے مکینزم تیار کیا ہے۔روزانہ کی بنیاد پر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو چیک کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری کے ڈیش بورڈز پر قیمتیں موجود ہو نگی اور جہاں پر مہنگائی ہو گی وہاں کے ڈپٹی کمشنر سے جواب طلب کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بی آر ٹی ایک شفاف منصوبہ ہے جس کا سول ورک مکمل ہے اور آر ٹی ایس انسٹالیشن مارچ تک مکمل ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں