موجودہ حکومت عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت ؐ کی چوکیدار ہے -نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی طاہر محمود اشرفی

ویب ڈیسک (اسلام آباد): وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد ظاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے متفقہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کاروائی کی جائےگی ۔ نفرت انگیز تقریر و تحریر کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، فلسطینی صدر نے وزیر اعظم عمران خان کے فلسطین کے مسئلہ پر موقف کو جرأت مندانہ اور امت مسلمہ کی ترجمانی قرار دیا ہے ، موجودہ حکومت عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت ؐ کی چوکیدار ہے ، توہین ناموس رسالت اور فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف عالمی سطح پر قانون سازی کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں ۔یہ بات انہوں نے متحدہ علماء بورڈ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر علامہ کاظم رضا ، مولانا محمد خان لغاری ، علامہ پیر زبیر عابد ، مولانا اسد اللہ فاروق ، مولانا اسید الرحمن سعید، علامہ اصغر عارف چشتی ، مولانا محمد نعیم بادشاہ ، مولانا محمد اسلم قادری ، قاری شمس الحق ، حافظ محمدنعمان حامد ، مولانا محمد اسلم صدیقی ، علامہ یونس حسن ، قاری مبشر رحیمی ، مولانا عبد الحکیم اطہر ، سید فرزند علی اور دیگر موجود تھے ۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مدارس عربیہ کی وزارت تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کا فیصلہ موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے ۔ انٹرفیتھ ہارمنی کونسلز کے قیام سے بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمہ کو تقویت ملے گی ، پاکستان کا آئین اور قانون مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کا محافظ ہے، متروکہ وقف املاک بل پر مدارس و مساجد کے جائز تحفظات کو دور کیا جائے گا، اس سلسلہ میں اسپیکر قومی اسمبلی علماء و مشائخ سے رابطے میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں ملک میں دین کا نام لے کر انتشار پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ حزب اختلاف کے ذمہ داروں کو ٹی وی پر مناظرہ کا چیلنج دیتا ہوں کہ موجودہ حکومت مدارس و مساجد ، عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کی چوکیدار ہے ۔ اسلام کا نام لے کر اسلام آباد کے خواب دیکھنے والوں نے ملک میں انتشار کی فضا پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے ۔ آج فلسطین کے مسئلہ پر فلسطینی قوم اور امت مسلمہ عمران خان کو امت مسلمہ کا ترجمان کہہ رہی ہے ۔ ہمیں خوشی ہے کہ عمران خان کے فلسطین کے مسئلہ پر جرأت مندانہ موقف کے بعد حزب اختلاف کے بعض قائدین کو بھی فلسطین یاد آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی کو نفرت نہیں پھیلانے دیں گے ۔ مقدسات کی توہین کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے ۔ ہندوستان اور پاکستان دشمن لابیاں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات چاہتی ہیں جن کو باہمی اتحاد سے ناکام بنایا گیا ہے اور ناکام بنائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ تمام اسلامی و عرب ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ منفی پراپیگنڈہ کرنے والے عناصر جان لیں کہ پاکستان کے تمام عرب اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات نہایت مستحکم اور مضبوط ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب کے تعلقات پاکستان اور پاکستان کی عوام کے ساتھ ہیں ۔ سعودی عرب نے کبھی پاکستان کے داخلی و خارجی معاملات میں مداخلت نہیں کی ہے ۔ ہماری اطلاعات کے مطابق شاہ سلمان نے نواز شریف کو سعودی عرب کے دورہ کی دعوت نہیں دی ہے ۔ یہ تاثر پھیلانا کہ سعودی عرب یا کوئی اور دوست ملک حزب اختلاف کی سرپرستی کر رہا ہے ، درست نہیں ہے ۔ سعودی عرب پاکستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا ، ماضی میں بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہماری سیاسی قیادت نے ہی اپیلیں کی تھیں۔ الحمدللہ پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک ہے ، ہم اپنے دوست اور برادر ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتے ہیں۔ نہ ہم کسی کی داخلہ و خارجہ پالیسی میں مداخلت کرتے ہیں اور نہ ہی ہماری داخلہ و خارجہ پالیسی میں کوئی مداخلت کر سکتا ہے ۔، سعودی عرب کی پاکستان اور پاکستان کی عوام سے دوستی اور تعلق ہے ، دوست ممالک کے بارے میں افواہ سازی سے گریز کرنا چاہئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ انٹر فیتھ ہارمنی کونسلز کے ملک بھر میں کنوینئر بنائے جا رہے ہیں ، تمام مذاہب و مکاتب فکر کے ذمہ داران سے رابطے میں ہیں ۔ جلد وزیر اعظم اور صدر مملکت قومی اور بین الاقوامی موجودہ صورتحال پر علماء و مشائخ سے ملاقات کریں گے اور اہم امور پر مشاورت کی جائے گی۔