احساس تحفظ پروگرام

مفت علاج کیلئے احساس تحفظ پروگرام کا دائرہ پختونخوا تک وسیع

ویب ڈیسک :غریب اور مستحق افراد کے لئے احساس تحفظ پروگرام کا دائرہ خیبرپختون خوا تک بڑھا دیا گیا۔

وفاقی حکومت نے غریب اور مستحق افراد کو ہسپتالوں میں داخل ہونے کی صورت میں825سےزائدبیماریوںمیںمفت علاج کی فراہمی کیلئے احساس تحفظ پروگرام کے دائرہ کارکو خیبر پختونخوا تک توسیع دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس سلسلے میں ابتدائی طور پر پشاور کے2تدریسی ہسپتالوںمیںپروگرام شروع کرنےکی منصوبہ بندی ہے جس کیلئے احساس تحفظ پروگرام اور محکمہ صحت کے درمیان معاہدہ کر لیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں دیگر ہسپتالوں تک اس منصوبے کو توسیع دی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں تمام آبادی کو ہسپتال میں داخل ہونے کی صورت میں ساڑھے12سو سے زائد بیماریوں کا مفت علاج دیا جارہا ہے تاہم صحت کارڈ میں چونکہ سال میں ایک مرتبہ پیسے منتقل کئے جاتے ہیں .

اس لئے غربت کی لکیر سے نیچے کےانڈیکیٹر میں شامل مریضوںکو بعض اوقات مفت علاج میںمشکلات کا سامنا تھا جس کیلئے احساس تحفظ پروگرام میںاس قسم کے افراد کو شامل کرنے کی منظوریدی گئی ہے۔

قبل ازیں آزمائشی بنیادوں پر یہ پروگرام اسلام آباد کے ہولی فیملی ہسپتال میں شروع کیا گیا تھا لیکن اب یہ پروگرام خیبر پختونخوا تک بڑھادیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں گذشتہ روز وزیراعظم کی مشیر ثانیہ نشتر اور صوبائی پالیسی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نوشیروان برکی کی ہدایات کی روشنی میں معاہدہ کرلیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال، خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں سے کسی2ہسپتالوں میں یہ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

ان ہسپتالوں کے نمائندوں ڈاکٹر خضر حیات، ڈاکٹر فرمان اور ڈاکٹر فیصل شہزاد نے معاہدے پر ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے لئے محکمہ صحت کے ایڈیشنل ہیلتھ سیکرٹری کی موجودگی میں دستخط کردئیے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ مفت علاج ہسپتال میں داخل مریض کو صحت کارڈ میں پیسے ختم ہونے کے بعد فراہم کیا جائے گا متعلقہ ڈاکٹرز کے توسط سے وارڈز میں داخل مریضوں کے بارے میں ڈیٹا ایک خصوصی پورٹیل کے ذریعے احساس تحفظ پروگرام کو ارسال کیا جائے گا ۔

پاورٹی سروے میں غربت کی لکیر سے نیچے ہونے کے انڈیکیٹرز پر پورا اترنے کے بعد مریض کے تمام اخراجات ہسپتال برداشت کریں گے اور سات دنوں میں ہسپتال کو منظور شدہ پیکیج کے مطابق پیسے منتقل کئے جائیں گے ۔