فتنے کی سرگرمی صرف خیبرپختونخوا میں ہے

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ قانون کی عمل داری کے لیے عدالت جو حکم کرے گی سو فیصد عمل کریں گے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ماضی عدالت کے پیش نظر ہونا چاہیے، پہلے بھی یہ عدالت کی آڑ لیکر یہاں آئے پھر وعدہ خلافی کی، سپریم کورٹ آئین کا محافظ ادارہ ہے، آئین کا تحفظ ہر ادارے پر فرض ہے، عدالت آئین کی سربلندی کے لیے جو حکم کرے گی ، بجالائیں گے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ لاہور کی ڈیڑھ دو کروڑ کی آبادی میں سے دو ڈھائی سو لوگ نکلے،ان کا طوفان سوشل میڈیا کی حد تک تھا، کوئی شرم ہے تو عمران خان کو مارچ ختم کر دینا چاہیے، صوبائی وسائل کے ساتھ وفاق پرحملہ آور ہونے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے، یہ فرمائشی گرفتاری کرا رہے ہیں اور پروپیگنڈا کر رہے کہ بڑی سختی ہوگئی۔وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ پنجاب مکمل پرسکون ہے، پنجاب کے عوام کا فساد کا حصہ نہ بننے پر شکرگزار ہوں، اس وقت کوئی سرگرمی ہے تو وہ کے پی میں ہے، کے پی سے آنے والوں کے پاس محکمہ زراعت کی مشینری اور اسلحہ بھی ہے، وہ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ وفاق پر چڑھائی کے لیے آئے ۔ بلوچستان میں کسی کو نہیں معلوم کہ فتنہ فساد ہو رہا ہے یا نہیں، سندھ کے باسیوں نے بھی فتنہ فساد مارچ کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے۔

مزید دیکھیں :   حکمران اتحادمیں دراڑ، زرداری بھگائوتحریک کی دھمکی