افغانستان کے 18ملین افراد کو غذائی بحران

افغانستان کے 18ملین افراد کو غذائی بحران کا سامنا ہے،اقوام متحدہ

ویب ڈیسک: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی 38 ملین کی آبادی میں سے 18 ملین افرادانسانی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ مزید اتنے ہی افراد کو بھی ایسے ہی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک سینئر عہدیدار مجید یحیٰی کا کہنا ہے کہ: “ہمیں فوری طور پر پیسوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ستمبر سے دسمبر تک 200 ملین ڈالر کی ضرورت ہے بصورت دیگراکتوبر کے اوائل میں ہمارے پاس گندم ختم ہو جائے گی۔

انہوں نے فنڈز کی کمی کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ 200 ملین ڈالر بھی اصل ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے درکار رقم کے مقابلے میں “سمندر میں ایک قطرہ” ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے ایک تخمینے کے مطابق اس سال کے لیے ملک کی خوراک کی مجموعی ضروریات 559 ملین ڈالر ہیں۔

یحیی نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان میں وسیع پیمانے پر بھوک کو نہ روکا گیا تو یہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور مزید تنازعات کا باعث بن سکتی ہے ۔”ہم ملک کے 40 فیصد سے زیادہ افراد کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ان کی خشک سالی کی وجہ سے فصلیں ضائع ہو گئی ہیں اور ان خاندانوں کی آمدنی کم ہو گئی ہے جو خوراک خریدنے کے لیے بھی کافی نہیں ہے۔

ان کامزید کہنا تھا کہ کم از کم 14 ملین افراد کو غذائی عدم تحفظ کے طور پر شناخت کیا گیا ہے ، جن میں550,000وہ ا فراد بھی شامل ہیں جو سال کے آغاز سے تنازعات کے باعث بے گھر ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر انسانی صورت حال مزید بگڑتی ہے اور فاقہ کشی کا باعث بنتی ہے تو دنیا کو احساس ہو جائے گا کہ تنازعہ افغانستان سے آگے بڑھ گیا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ 13 ستمبر کو جنیوا میں افغانستان کے لیے امداد کے حوالے سے ایک اعلی سطحی کانفرنس منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریس بھی شرکت کریں گے۔کانفرنس فنڈنگ میں تیزی سے اضافے پر زور دے گی تاکہ زندگی بچانے والا انسانی کام جاری رہے۔