پاکستان میں سری لنکاکے مناظر

شہبازحکومت اور آئی یم ایف کے درمیان ہونے والے جس معاہدے پر بغلیں بجائی جا رہی تھیں وہ ایک ٹائم بم کی صورت میں پھٹ کر پاکستانی عوام کو زخمی اور گھائل کررہا ہے ۔اس بم کے ذرات معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کر چکے ہیں ۔حکومت کے جاتے ہی نگران حکومت نے معیشت کے ڈوبتے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا توصاف نظر آرہا تھا ان نیم حکیموں سے بھی ملک سنبھلنے والا نہیں ۔نگران حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کے پیدائشی بوجھ کے ساتھ ہی منظر پر آئی ۔شہباز حکومت کے کارپردازان نے اچھا کیا کہ حکومت ختم ہوتے ہی ملک سے نکل جانے کا فیصلہ کیا ۔پہلے وزیر خزانہ اسحاق ڈاراپنی حکمت کاری اور مسیحائی کی تلخ یادیں چھوڑ کر لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ پر جا اُترے اس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف بھی سابق ہوتے ہی لندن پہنچ گئے اپنے پیچھے آئی ایم ایف کا معاہدہ ،تقدیس ِ تکریم ِ آئی ایم ایف کی قانون سازی اور نگران حکومت چھوڑ کر چلے گئے ۔عوام اب بجلی کے بل اُٹھائے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ ”میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں”۔ نگران حکومت کا کیا بے چار ے دوگھڑی کے مہمان ہیں کہیں اور چلے جائیں گے مگر ملک کی تجربہ کار اور باصلاحیت چودہ جماعتی اتحاد کی حکومت نے عوام کو مہنگائی اور بدحالی کی جس کھائی میں گرادیا ہے اب قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے ۔نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ تو معصومیت سے کہہ رہے ہیں اگر چھ ماہ میں چھ لاکھ لوگ مہنگائی بے روزگاری او رمعاشی بدحالی کی وجہ سے ملک چھوڑ کر چلے گئے تو کیا ہوا ؟ بات ان کی بھی سچ ہے حکمران طبقات کو کسی بھی جھٹکے او رحادثے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔حکمران طبقات کو آدھا ملک الگ ہونے سے بھی کچھ نہیں ہوا اور اس وقت کے حکمران نے کہا کہ شکر ہے پاکستان بچ گیا۔کچھ ایسا ہی شکر سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ادا کیا تھا کہ شکر ہے ملک سری لنکا نہیں بنااور ہم نے ملک کو سری لنکا بننے سے بچا لیا۔منصف مزاج ماہرین کا پہلے ہی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے میں پاکستان کے عام آدمی کے لئے خوش خبری نہیں گویا کہ یہ معاہدہ عوام کے لئے مہنگائی کا ایک اور تازیانہ ثابت ہوگا ۔آئی ایم ایف نے تین ارب ڈالر قرض امریکہ کی مداخلت پر بے سبب نہیں دیا ہوگا ۔پاکستان نے بیک وقت امریکہ اور آئی ایم ایف کی نجانے کونسی شرائط تسلیم کی ہوں گی ۔اسی لئے یہ مطالبہ ہورہا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف معاہدے کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ عوام کو اندازہ ہو کہ ملک کے ڈیفالٹ نہ ہونے کیا قیمت ادا کی گئی ہے ۔حد تو یہ کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اب بھی سٹینڈ بائی ہے گویا کہ اس کی حیثیت عارضی ہے ۔آئی ایم ایف نے وقتی طور پر پاکستان کو سری لنکا جیسی صورت حال سے بچانے کے لئے قسط جاری کی تھی مگر اس قسط کی شرائط پوری کرتے کرتے پاکستان سری لنکا کے مناظر سے آشنا ہورہا ہے ۔بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے عوام پر بلوں کی صورت میں جو تباہی برپا کی گئی ہے اس نے ملک میں سول نافرمانی جیسی صورت حال پیدا کر دی ہے ۔ ڈنڈے کے آگے دہائیوں سے سرجھکائے رکھنے والے ملک کے صابر وشاکر عوام نے بالآخر ڈنڈا سنبھال لیا ہے۔ہڑتالیں اور مظاہرے شروع ہو گئے ہیں ۔بجلی کے بل اجتماعی طور پر جلائے جا رہے ہیں ۔بل تھمانے اور کنکشن کاٹنے والے واپڈ اہلکار عوامی غٰض وغضب کا شکار ہونے لگے ہیں ۔ملک میں ایک احتجاجی تحریک کا وہ ماحول بننے لگا ہے جس کا مظاہرہ کچھ ہی عرصہ قبل سری لنکا میں ہوا تھا ۔جس کے بارے میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہم نے ملک کو سری لنکا بننے سے بچا لیا حقیقت میں سری لنکا بننے سے بچایا نہیں بلکہ سری لنکا بنا دیا ہے ۔اب تو جو حالات ہیں اس میں سری لنکا کی بجائے لوگ پاکستان کی مثالیں دیں گے ۔ سری لنکا میں مشتعل عوام نے حکمرانوں کے محلات کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چینی کی قیمتیں دوسو کے قریب پہنچ گئی ہیں اور یہ کارنامہ چند ہفتوں میں رونما ہوا ۔مجال ہے کسی نے معلوم کیا ہو کہ چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا۔ڈیڑھ سال پہلے پولٹری کی صنعت والوں نے حکومت سنبھالی تو اس کے بعد سے مرغی کی قیمتیں راکٹ کی رفتار سے اوپر جانے کا سلسلہ جاری ہے ۔اب تو مرغی کا گوشت چینی اور آٹا بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگیا ہے ۔روسی تیل کی آمد کا سلسلہ جاری رہا مگر اس کا قومی معیشت کو کیا فائدہ ہوا ؟ کچھ پتا نہیں ۔روسی تیل کوئی متبرک شے نہیں تھی جس سے پاکستان میں خیر وبرکت مقصود تھا اس تیل کو خریدنے کا مقصد یہی تھا کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات میں کمی آئے اور مہنگائی کسی حد تک کنٹرول میں رہے ۔تیل روس کا ہو یابرادر عرب ملکوں کا بصیرت سے عاری اور ناقص منصوبہ بندی کا شکار قوموں کی تقدیر نہیں بدل سکتا ۔قوموں کی تقدیر صرف بہترین منصوبہ بندی قانون کی حکمرانی اخلاص اور دیانت دارانہ طرز عمل سے ہی تبدیل ہوتی ہے ۔ سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ بات بھی تسلیم کی تھی کہ اگر چین نے فوری مدد نہ کی ہوتی تو پاکستان سری لنکا بن چکا ہوتا ۔چین سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں جوقرض دیا ہے یہ محض نمائشی ہے اس سے سٹیٹ بینک اور زرمبادلہ کے ذخائر کا بھرم بچا ہوا ہے ۔اس قرض کو سونگھا تو جا سکتا ہے مگر چھونے کی اجازت نہیں ۔حد تو یہ جس امریکہ کی خاطر پاکستان کے حکمران طبقات پالیسیاں بناتے او ربدلتے ہیں اس کے اعلیٰ حکام منہ پکا کرکے کہتے ہیں کہ پاکستان کے معاشی مسائل کا ان کے پاس کوئی فوری حل نہیں پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ تعاون جاری رکھنا ہوگا ۔حیرت کی بات ہے کہ امریکہ کے پاس پاکستان کو جنگوں میں جھونک کر اس کی معیشت کو بربا د کرنے کا حل تو دبائو اور دھونس اور لالچ میں ہوتا ہے مگر جب پاکستان کی معیشت بھنور میں گھر جائے تو امریکہ ہاتھ کھڑے کر کے کہتا ہے کہ ہمارے پاس پاکستان کے مسائل کا حل نہیں۔امریکہ اب پاکستان سے یوکرین کی جنگ کو” جہاد” قرار دلوا کر کام لینا چاہتا ہے ۔ شاید ابھی کوئی عالم دین یوکرین کی جنگ کے جہاد ہونے کا فتویٰ جاری کر نے پر تیار نہیں ۔ممکن ہے کوئی نکتہ داں آگے بڑھ کر یہ فریضہ بھی انجام دے ۔افغانستان کی دو جنگوں کے نتائج سے تو یہی سبق ملا ہے کہ پرائی جنگ کا بوجھ اُٹھانے کا مطلب ملک کا معاشی بیڑہ غرق کرنا ہے ۔آئی ایم ایف کا معاہدہ پاکستانیوں کیلئے ”مدرآف آل بمز” ثابت ہوا ۔ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی قوت خرید کم سے کم ہوتی جا ہی ہے ۔ملک میں چند دن قبل تک ان سیاسی جماعتوں کی حکومت تھی جو احتجاج کے طور پر مہنگائی مارچ کرکے دارالحکومت پر چڑھائی کیا کرتے تھے ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے کہ جب اُدھر ڈیزل پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا اِ دھر کارپوریٹ اور منظم ایجنڈوں کے لئے استعمال ہونے والا میڈیا مائیک لے کر مہنگائی کی دُہائیاں دینے مارکیٹوں میں پہنچ جاتا تھا ۔ہر روز شام چھ سے بار ہ بجے تک ٹی وی کی سکرین پر مہنگائی کی بنیاد پر حکومت کے لتے لئے جاتے تھے ۔پھر دنوں کا اُلٹ پھیر یوں ہوا کہ حکومت والے اپوزیشن میں مہنگائی مارچ کرنے والی اپوزیشن جماعتیں حکومت میں آگئیں۔اس تبدیلی سے مہنگائی میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہی ہوتا چلا گیا ۔سب سے تلخ اور دل خراش حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دور کی مہنگائی میں منقا زیرِپا الیکٹرونک میڈیا اس بار مکمل طور پر غائب ہے ۔ میڈیا عوام کی زبان اور آنکھ ہوتا ہے اور وہ عوام کی تکالیف کو حکمرانوں تک پہنچاتا ہے مگر یہاں میڈیا مکمل چپ سادھے ہوئے ہے ۔جس سے ارباب ِ اختیار کو حالات کی سنگینی کا احساس ہی نہیں ہو رہا ۔اب تو مہنگائی مارچ کرنے والا بھی کوئی باقی نہیں رہا کیونکہ وہ خود موجودہ مہنگائی کا ٹائم بم چھوڑ گئے تھے جو نگرانوں کے ہاتھ میں پھٹ گیا ہے اور عوام کی چیخیں ساتویں آسمان تک پہنچنے لگی ہیںمگر عوام چیخ رہے ہیں تو کیا ہوگیا ؟دوچاردن رو دھو کر چپ ہوجائیں گے۔

مزید پڑھیں:  سانس لینے پر بھی ٹیکس ہونا چاہیے!