جنوبی ایشیاء کی سیاسی تشکیل نو؟

جنوبی ایشیاء کے تین اہم ملکوں بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش میں انتخابات کا موسم آن پہنچا ہے ۔بھارت اور بنگلہ دیش میں اگلے برس انتخابات کا انعقاد یقینی ہے مگر پاکستان میں فی الحال انتخابات کاانعقاد غیر یقینی اور شکوک کی دھند میں لپٹا ہوا ہے ۔یوں تو رواں برس ہی انتخابات کا سال تھا مگر یوں لگتا ہے کہ اس عمل کو ٹالنے کی سوچ بھی توانا ہے۔بھارت اور بنگلہ دیش میں دو موجودہ حکمرانوں نریندر مودی اور حسینہ واجد کا ستارہ گردش میں ہے تو پاکستان میں عمران خان ایک مقبول لیڈر کے طور پر اُبھرنے کے باوجود سیاسی بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں ۔عمومی تاثر یہ ہے کہ جنوبی ایشیاء کی انتخابی سیاست امریکہ کی دلچسپی کا اہم ترین موضوع ہے اور وہ حالات ہر گہری نظر ہی رکھے ہوئے نہیں بلکہ کینوس پر برش چلا کر جنوبی ایشیا ء کی سیاسی تشکیل جدید اور نئی صف بندی کی کوشش بھی کر رہا ہے۔خطے سے امریکہ کی دلچسپی ماضی میں کم نہیں رہی مگر اب ایک بار پھر اس دلچسپی کا عود کر آنا اور احتیاط کے پیمانے سے چھلک جانااس لئے بھی قابل فہم ہے کہ امریکہ ایک بار پھر سرد جنگ کے دور میں پہنچ چکا ہے۔جہاں اسے سوویت یونین کی توسیع پسندی او ر طاقت کا سامنا تھا اور اس دیوہیکل ملک کے مقابلے کے لئے دور سے آکر اسے مقامی صف بندیاں کرنا پڑتی تھیں۔تین عشرے اسلامی شدت پسندی اور دہشت گردی کی پرچھائی کا تعاقب کرنے اور ریت کی بوری پر مکے چلانے کے بعد امریکہ ایک بار پھر پرانے حریف روس اور چین کے پیچھے پڑ گیا ہے اور یوکرین اس نئی سردجنگ کا گرم میدان یعنی نیا ”افغانستان ” ہے مگر فرق صرف یہ ہے کہ یہاں اسے اب مسلمان رائے عامہ اور حکمرانوںکو بلانے کے لئے جہاد کی بجائے انسانیت کے نعرے پرہی اکتفا کرنا پڑ رہا ہے اور البتہ مسلمان ملکوں اور حکمرانوں کے لئے یوکرین کی جنگ میں معاشی امکانات کی کشش اور پیشکش موجود ہے۔عمومی تاثر یہ ہے کہ امریکہ جنوبی ایشیاء کی سیاسی تشکیل جدید میںنریندر مودی اور حسینہ واجد سے گلو خلاصی چاہتا ہے۔بھارت کے ساتھ تزویزاتی شراکت داری کے باوجودنریندر مودی چین کے خلاف عملی میدان میں امریکہ کی پراکسی بننے سے انکار ی ہیں کیونکہ امریکہ کا مطالبہ صرف سیاسی دبائو ہی نہیں کسی موقع پر عملی طور پر تصادم میں شرکت بھی ہے اور بھارت یہ جان چکا ہے کہ کسی بڑی عملی جنگ میں شرکت کا مطلب ترقی کی گاڑی کو مستقل ریورس گیئر لگانے کے مترادف ہوگا اور پھر شاید ہی بھارت اس جھٹکے سے دوبارہ سنبھل پائے ۔اس لئے امریکہ نے نریندر مودی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے ۔کچھ یہی وجوہات بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد سے ناراضگی کی ہیں۔حسینہ واجد ایک تو روایتی طور پر بھارت کی اتحادی ہیں تو دوسرا انہوں نے چین کے اثر رسوخ کو بنگلہ دیش میں بڑھنے دیا ہے اور مستقبل میں خلیج بنگال میں امریکہ کے فوجی منصوبوں کے فریم میں ان کی پالیسی فٹ نہیں بیٹھ رہی۔اس لئے امریکہ حسینہ واجد کی معتوب خالدہ ضیا ء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو اقتدار میں دیکھنا چاہتا ہے۔یہ نکتہ بھارت اور امریکہ کے درمیان وجہ نزع بھی بن سکتا تھا کیونکہ بھارت حسینہ واجد کے سواکسی دوسرے آپشن پر یقین ہی نہیں رکھتا جبکہ امریکہ حسینہ واجد کو چین سے قربت کی سز اکے طور پر خالدہ ضیاء کی حکومت چاہتاہے ۔بنگلہ دیش کے انتخابات کے حوالے سے دواہم مضامین شائع ہوئے ہیں ۔جن سے یہ اندازہ ہورہا ہے کہ بنگلہ دیش کے انتخابات وہاں کے عوام سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن کا در دِ سر نہیں بلکہ بنگلہ دیش سے باہر والوں کی دلچسپی کا سب سامان بھی ہیں جو ان انتخابات کے نتائج کو اپنے مستقبل کے منصوبوں سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ان میں پہلا مضمون سوبر بھومک نامی تجزیہ نگار کا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ اور بھارت نے بنگلہ دیش کے انتخابی مستقبل کے حوالے سے اپنے اختلافات کو ایک نکتے پر لاکر محدود کیا ہے اور وہ نکتہ ہے بنگلہ دیش میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات۔مضمون نگار کے مطابق امریکہ کے انڈر سیکرٹری برائے جنوبی ایشا ڈونلڈ لو کے بنگلہ دیش اور بھارت کے دوران دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اپنی الگ پسند ونا پسند کے با وجود بنگلہ دیش میںانتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہونے چاہئے۔بھارت نے امریکہ کو یہاں بھی اسلامی شدت پسندی کا کارڈ کھیلتے ہوئے باورکرایا کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی واپسی صرف ایک اسلامسٹ پارٹی کی واپسی نہیں بلکہ اس کے روایتی اور ٹھیٹھ اسلامسٹ اتحادیوں جماعت اسلامی کی واپسی بھی ہے اور یہ کہ جنوبی ایشاء ایک اور اسلامسٹ رجیم کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔(ایک اور کا مطلب غالباََ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد )مضمون نگار کے مطابق بھارت کو بھی عوامی لیگ سے کچھ شکایتیں ہیں جن میں جماعت اسلامی کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن کی عدالت سے استدعا کے مقدمے میں حکومت کی ہاتھ ہلکا رکھنے کی پالیسی ہے۔عدالت کالعدم جماعت اسلامی کو ری رجسٹر کرنے کی درخواست کو مسترد کرنے کی درخواستوں پر زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی۔بھارت کا عوامی لیگ سے دوسرا گلہ یا مطالبہ یہ ہے عوامی لیگ اپنی صفوں سے پرواسلامسٹ اور پروچائنہ راہنمائوں کو فار غ کرے اور ان کی جگہ پاپولر اور سیکولر نئے چہروں کو سامنے لائے اور انہیں انتخابی ٹکٹ بھی دے۔اب بنگلہ دیش کے انتخابات میں امریکہ اور بھارت کے درمیان تنازعہ بہت محددو ہوگیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ کو اس غرض نہیں کہ فری اینڈ فیئر انتخابات میں جیت کس کے حصے میں آتی ہے جبکہ بھارت چاہتا ہے کہ ان انتخابات میں جمہوری سیکولر اور 1971کی تقسیم کو یقینی بنانے والی طاقت ہی ڈھاکہ میں برسراقتدار رہے۔اس حوالے سے دوسرا ہم مضمون ایندریو کوری بکو نامی سینئر تجزیہ نگار کا ہے۔جس میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش کے انتخابات جنونی ایشیاء کی تشکیل نو کے عمل میں امریکہ کے لئے سٹریٹجک اعتبار سے ٹریگر پوائنٹ یعنی بندوق کی لبلبی ہے۔یہاں بھارت نے امریکہ کو پیچھے دھکیل دیا ہے کیونکہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ خالدہ ضیاء کی جیت سے اس کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور اس سے بنگلہ دیش میں پاکستان کا اثر رسوخ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔یہاں مضمون نگار ایک دلچسپ نکتہ اُٹھاتا ہے کہ بنگلہ دیش میں خالدہ ضیاء کی حکومت کا قیام امریکہ او رپاکستان کے درمیان ادل بدل کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے ۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو اپریل 2022میں ”ماڈرن کُو ”کے ذریعے برطرف کرکے اس کا صلہ بنگلہ دیش میں خالدہ ضیاء کی حکومت کے قیام کی صورت میں مانگا ہو۔پاکستان کی تردید کے باجود اطلاعات ہیں کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فروخت کر رہا ہے ۔جس کا مقصد پاکستان کو چین کی طرف لڑھکنے سے روکنا اور بھارت پر دبائو برقرار رکھنا بھی ہوسکتا ہے ۔مضمون نگار کے مطابق بنگلہ دیش میں خالدہ ضیاء کی نیم اسلامسٹ اور جماعت اسلامی کی مسلمہ اسلامسٹ طاقت کی حمایت امریکہ کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔یوں امریکہ خطے میں ڈیوائیڈ اینڈ رول کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔بنگلہ دیش کے انتخابات کی ان تہہ در تہہ حقیقتوں کے آئینے میں پاکستان کے انتخابی منظرنامے کو بھی آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے جو بہرحال ایک ایٹمی ملک اور چین کا قریب ترین ہمسایہ ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش سے زیادہ اہم ہے ۔

مزید پڑھیں:  پشاور کا نوحہ