جسٹس عائشہ پہلی خاتون جج

جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بن گئیں

جسٹس عائشہ ملک نے بطور سپریم کورٹ جج حلف لے لیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس عائشہ اے ملک سے حلف لیا۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جج ایک خاتون مقرر ہوئی ہیں۔ جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کی تعیناتی کی سفارش کی تھی۔ تقریب حلف برداری میں ججز،وکلاء،عدالتی اسٹاف اورمیڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی، جسٹس عائشہ ملک کی تقریب حلف برداری کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جسٹس عائشہ ملک اپنی قابلیت کی بنیاد پر جج بنی ہیں، ہم کسی چیز کا کریڈٹ نہیں لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پارلیمانی کمیٹی کی بطور جج جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کی منظوری

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس عائشہ ملک کے نام کی منظوری دی تھی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے جسٹس عائشہ ملک کے نام کی منظوری دیے جانے کے بعد وفاقی وزارت قانون نے ان کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

جسٹس عائشہ ملک کے متعلق لاہور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پہ درج ہے کہ وہ 1966 میں پیدا ہوئیں اور اپنی تعلیم پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک سے حاصل کی۔ انہوں نے فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے تعلیمی اداروں سے بھی کسب فیض کیا، قانون کی اعلیٰ تعلیم (ایل ایل ایم) امریکہ کے معروف تعلیمی ادارے ہارورڈ لا سکول سے حاصل کی۔

جسٹس عائشہ ملک بحیثیت وکیل ہائی کورٹس، ڈسٹرکٹ کورٹس، بینکنگ کورٹس، اسپیشل ٹریبیونلز اور آربٹریشن کورٹس میں پیش ہوئیں اور مقدمات لڑتی رہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں متعین ہونے والی جسٹس عائشہ ملک مئی 2012 میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈیشنل جج مقرر کی گئی تھیں۔

خیال رہے سپریم کورٹ میں مقررہ 17 ججز میں سے جسٹس مشیر عالم کی 17 اگست کو ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہونے والی نشست پر جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی ہوئی ہے۔

مزید دیکھیں :   بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ،48افسر تبدیل،ذکاء اللہ خٹک سیکرٹری اطلاعات