مرے کومارے شاہ مدار

پاکستان ان دنوں جہاں مہنگائی کی شدید زد میں ہے وہی عوام کو روزمرہ کے استعمال کی کئی اشیاء کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ قلت کا شکار ہونے والی اشیا میں ضروری ادویات بھی شامل ہیں اور اس حوالے سے شہری کافی پریشان ہیں۔اطلاعات کے مطابق اچانک مارکیٹ سے مختلف ادویات غائب ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق وہ جو بھی نسخے لوگوں کو لکھ کر دے رہے ہیں وہ دوائیاں مارکیٹ سے نہیں مل رہی ہیں۔ادویات کی قلت کی وجوہات کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ایک تو ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سامان فراہم کرنے والی کئی بڑی ڈیلر کمپنیاں چھوڑ گئی ہیں۔ آئی بی ایل نے پاکستان میں اپنے آپریشن بند کر دیے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ ڈالر کی قدر کا ایک جگہ پر مستحکم نہ ہونا ہے۔اس طرح کی یقینی صورتحال کے باعث ادوایات کی قلت کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ روز مرہ کے استعمال کی ادویات مارکیٹ سے نہ ملنے کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔علاوہ ازیں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کی وجہ سے امپورٹ کرنے والی ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی سطح پر قیمت نہ بڑھنے کی وجہ سے امپورٹر ادویات امپورٹ نہیں کروا رہے ہیں۔بجلی کا بحران ‘ چینی کی قیمتوں میں اضافہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات اور سب سے بڑھ کر شدید مہنگائی جیسی مشکلات سے تو عوام دوچار ہیں ہی اب ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اور ناپیدگی کے باعث مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں جہاں ایک طرف محولہ قسم کی صورتحال ہے وہاں دوسری جانب یہ ادویات بلیک میں دستیاب ہیں جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ صورتحال اس قدر بھی خراب نہیں یہ درست ہے کہ ادویات مہنگی ضرور ہوئی ہیں لیکن مہنگے داموں عدم دستیابی کی وجہ مافیا کی جانب سے ان ادویات کی سپلائی روک کر ناجائز منافع کمانا ہے یہ صورتحال سب کے سامنے ہونے کے باوجود متعلقہ محکموں اور اداروں کی جانب سے اس سنگین اور نازک صورتحال پر قابوپانے اورادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف گوداموں پر چھاپے اور میڈیسن مارکیٹ کا معائنہ کرنے کی زحمت نظر نہیں آتی سوال یہ ہے کہ اگر ادویات ناپید ہیں توپھر مہنگے داموں کیوں دستیاب ہیں ادویات کی قیمتوں اور ترسیلی عمل کوکنٹرول کرنے والے اداروں اور محکموں کو اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے حکومت کو ڈرگ انسپکٹروں کو فوری طور پرچھاپے مارنے اور ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کی سختی سے ہدایت کرنی چاہئے جہاں تک محولہ دیگر معاملات اور صورتحال کا تعلق ہے وزارت صحت کو اس حوالے سے جلد سے جلد حکومت سے بات چیت کرکے کم از کم اس قدر صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں کہ ادویات سازی کا عمل متاثر نہ ہو اور اس کی آڑ میں ناجائز منافع کمانے کے لالچی لوگ اپنا کام نہ کرپاسکیں۔

مزید پڑھیں:  فریاد کچھ تو ہو!