پن بجلی منافع ۔ وفاق کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ

صوبے کی پن بجلی کے خالص منافع اور قبائلی اضلاع فنڈز کے بقایا جات کے معاملات وفاق اٹھانے کے حوالے سے کیس تیارکرنے پر خیبر پختونخوا حکومت نے کام شروع کر دیا ہے اطلاعات کے مطابق اس ضمن میں 1600 ارب روپے کے بقایا جات وفاق سے وصول کرنے ہیں جن کی ادائیگی میںلیت ولعل کی پالیسی سے صوبے اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقی کا خواب ادھورا رہ گیاہے ‘ نگران وزیر اعلیٰ اعظم خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی نگران حکومت مکمل طورپرغیرسیاسی اور صرف آئینی و قانونی ذمہ داریوں تک محدود ہے’ نگران صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ اعظم خان نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن ایکٹ میں نگران حکومت کا مینڈیٹ واضح ہے ‘ نگران صوبائی حکومت اپنی آئینی اورقانونی ذمہ داریوں تک محدود رہے گی یہ مکمل طور پرغیرسیاسی حکومت ہے اور کسی بھی قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کام کرے گی ‘ امر واقعہ یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی موجودہ نگران کابینہ سے پہلے ایک اور کابینہ کام کر رہی تھی جس کے بعض ارکان پر سیاسی وابستگیوں اورجانبدارانہ رویئے کے الزامات سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن کی واضح ہدایات کے بعد اسے ہٹا کر نئی کابینہ کے لئے بہت چھان بین کے بعد ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دی گئی ‘ اس لئے نگران وزیر اعلیٰ کے اس بات میں وزن تو ہے کہ اب صوبے میں مکمل طور پر غیر جانبدار کابینہ کام کر رہی ہے جوسیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ذمہ داریاں نبھا رہی ہے ‘ تاہم جہاں تک وفاق کے ذمے 1600 ارب روپے کے بقایا جات کا تعلق ہے اس حوالے سے وفاق سے اتنی بڑی رقم کی طلبی کسی بھی طورپر نہ غیرآئینی ہے نہ ہی نگران حکومت کے مینڈیٹ کی حدود سے باہر ‘ اس لئے کہ صوبہ اپنے معاملات چلانے کے لئے فنڈز کامحتاج ہے اور جن شعبوں میں صوبے کے وفاق کے ذمے واجبات ہیں ان کے حوالے سے استفسار بھی غیر آئینی نہیں ہے ‘ پن بجلی کے منافع کا جہاں تک تعلق ہے جب سے اے جی این قاضی فارمولے کے تحت اس ضمن میں حکومت خیبر پختونخوا اور واپڈا کے مابین سمجھوتہ ہوا ہے جسے نہ صرف سپریم کورٹ کی حتمی منظوری اور صدرمملکت کی جانب سے ضمانت تحریری صورت میںمل چکی ہے اس کے بعد واپڈا مختلف حیلوں بہانوں سے معاملہ لٹکا رہا ہے’ اسی طرح سابقہ قبائلی علاقوں کوصوبے میں ضم کرنے کے بعد ان علاقوں کے فنڈز کی صوبے کو ادائیگی کا معاملہ بھی طے ہوا ہے اس بارے میں وفاقی حکومت تعاون سے گریزاں ہے ‘ اس لئے اس ضمن میں کیس ہٹا کر وفاق سے اپنے حصے کے فنڈز مانگنا نہ توغیرآئینی ہے نہ غیر اخلاقی ‘ اور وفاق کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صوبے کے واجبات کی ادائیگی میں مزید لیت و لعل کی پالیسی سے احتراز کرتے ہوئے صوبے کے بقایا جات کی ادائیگی کویقینی بنائے ۔