بچوں پر تشدد

بچوں کو تھپڑ،چھڑی،جوتا مارنا،بال کھینچنا جرم ہوگا، بل تیار

ویب ڈیسک(پشاور) پاکستان پیپلزپارٹی نے تعلیمی اداروں اورکام والی جگہوں پر بچوں پر جسمانی تشدد اور سزا کی روک تھام کیلئے جسمانی سزا پر پابندی بل 2021 کے مسودے کو بطور پیشگی نوٹس صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تحریک لبیک کا اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان، انٹرنیٹ بند

مجوزہ بل کا مسودہ پراونشل اسمبلی آف خیبرپختونخوا پروسیجر اینڈکنڈکٹ آف بزنس رولز 1988ء کے رول 77کے تحت جمع کرایا گیا ہے۔ رول 77 کے تحت پرائیویٹ ممبر کے طور پر بل متعارف کرنے کیلئے اجازت طلبی کی تحریک کے سلسلے میں15روز قبل نوٹس دینا لازمی ہوتا ہے اس نوٹس کے ساتھ بل کے مسودے کی نقول اور مکمل اغراض و مقاصد بھی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائے جاتے ہیں اس تناظر میں ایم پی اے نگہت اورکزئی کی طرف سے مجوزہ سفارشات کے تحت بل کی منظوری کی صورت میں بچوں پر ہر قسم کے تعلیمی اور تربیتی اداروں اور کام کرنے والے مقامات یعنی مکینکل ورکشاپس، ٹیلرنگ وغیرہ کی جگہوں پر تشدد پر پابندی اور ممانعت ہوگی۔

اس سلسلے میں قوت کے استعمال، بلکہ کسی بھی قسم یا نوعیت کی تکلیف یا چوٹ لگانے کو سزا تصور کیا جائے گا۔ بچوں کو تھپڑ لگانا، چابک، چھڑی، پیٹی، جوتے، لکڑی یا اس قسم کی دیگر چیزوں سے پیٹنا، بچے کو لات مارنا، جھنجھوڑنا، دانتوں سے کاٹنا، بالوں سے پکڑنا، کان کھینچنا، انہیں ایذا رسانی کیلئے تکلیف دہ حالتوں میں رکھنا اس پر ابلتا پانی ڈالنا، غذا کھانے پر مجبور کرنا انہیں ہتک آمیز رویہ کا نشانہ بنانا، اہانت، بدنام کرنا، دھمکانا اور خوفزدہ کرنا تشدد کے زمرے میں شامل ہوگا ۔

مجوزہ بل میں بچوں پر تشدد کے مرتکب ملزم کی تنزلی، ملازمت سے معطلی اور برخاستگی اور جبری طور پر ریٹائرمنٹ کے علاوہ سزا یافتہ شخص کو مستقبل میں کسی ملازمت کا اہل تصور نہ کرنے کی جیسی سزائیں تجویز کردی گئی ہے ملزم کی ترقی اور انکریمنٹ کسی خاص عرصے تک روکنے اور ان سزائوں پر عمل درآمد کیلئے مجسٹریٹ مقرر کرنے کی سفارشات بھی دی گئی ہیں۔