پرویزخٹک کے بیان پر شدید تنقید

”بچے جوش وجذبے کا اظہار کرگئے ”پرویزخٹک کے بیان پر شدید تنقید

ویب ڈیسک: وفاقی وزیر دفاع کی جانب سے سانحہ سیالکوٹ کے بارے میں دئیے گئے ریمارکس نے انہیں مشکل میں ڈال دیا سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

دوسری طرف عالمی ومقامی ذرائع ابلاغ نے بھی ان کے بیان کو جلتی پر تیل قرارد یتے ہوئے نمایاں کوریج دی ہے ۔ پشاور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا”سیالکوٹ میں نوجوان جذباتی ہوگئے تھے ایسے ہی ہم بھی نوجوانی میں جذباتی ہو جاتے تھے اگر جذبات میں نوجوانوں کے ہاتھوں ایک قتل ہوگیا تو اس کا مطلب نہیں کہ پاکستان تباہی کی طرف جا رہا ہے” ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ان پر شدید تنقید شروع کر دی کہ کیسے ایک ذمہ دار رہنما اس سانحے کو نہ صرف ہلکا لینے کی کوشش کر رہے ہیں. بلکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی راہ ہموار کرنے کی تحریک کا باعث بھی بن گئے ۔

ان کے اس بیان کے بعد ان کے آبائی ضلع نوشہرہ ہی سے تعلق رکھنے والے اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے ٹویٹ کی ”پرویز خٹک پاکستان میں جذباتیت کی آڑ میں انسان سوزی کوجائز اور مشتعل ہجوم کو معصوم قرار دے رہے ہیں۔ پرویز خٹک آئین ، قانون اور خدائی احکامات کے صریحاَِِ مجرم مرتکب ہوئے ہیں۔ اسکا عدالتی اور حکومتی سطح پر انتہائی سخت نوٹس لیا جائے”