فوڈکارڈکے اجراء کی تیاریاں مکمل

فوڈکارڈکے اجراء کی تیاریاں مکمل،ساڑھے 25 ارب روپے لاگت آئے گی

خیبرپختونخوا حکومت کے ایک اور فلیگ شپ اور غریب پرور منصوبے،،انصاف فوڈ کارڈ،،کے تحت مستحق خاندانوں کو فوڈ کارڈز کے اجراء کیلئے تیاریوں اور انتظامات کو حتمی شکل دی گئی ہے اور کارڈز کی تقسیم کا عمل جون کے پہلے ہفتے میں مکمل کرلیا جائے گا جبکہ جولائی سے مستحق خاندانوں کو راشن کیلئے نقد ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔ یہ بات گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیرصدارت انصاف فوڈ کارڈسے متعلق منعقدہ اجلاس میں بتائی گئی ۔

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش ،وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، کمشنر پشاور اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں مستحق خاندانوں کو انصاف فوڈ کارڈ سکیم کے اجراء کیلئے تیاریوں اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کے شرکاء کوبتایا گیا کہ مستحق خاندانوں کو انصاف فوڈ کارڈ کی تقسیم کا عمل جون کے پہلے ہفتے میں مکمل کیا جائے گا جبکہ اس مقصد کیلئے صوبے کے 10 لاکھ مستحق خاندانوں کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا گیا ہے ۔ فوڈ کارڈ سکیم پر عمل درآمد کیلئے محکمہ خوراک اور بینک آف خیبر کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے جاچکے ہیں۔

مزید دیکھیں :   محکمہ تعلیم کی24ہزارآسامیوں پر7لاکھ امیدوار

سکیم پر سالانہ ساڑھے پچیس ارب روپے لاگت آئے گی ۔ فوڈ کارڈ سکیم کے تحت کم آمدنی والے گھرانوں کو راشن کی خریداری کیلئے ماہانہ 2100 روپے دیئے جائیں گے جبکہ اس منصوبے سے صوبے کے 50 لاکھ افراد یعنی 12 فیصد آبادی مستفید ہو گی ۔اجلاس میں رعایتی نر خ پر صوبے کے عوام کو آٹے کی فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور وزیراعلیٰ نے 20 کلوآٹے کا تھیلا980 روپے پر فراہم کرنے کی تجویز سے اصولی اتفاق کیا ۔

اجلاس میں اگلے مالی سال کیلئے گندم کی خریداری کیلئے پلان کی بھی منظوری دی گئی ہے ۔اس کے علاوہ اجلاس میں صوبہ بھر میں اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ صحت کارڈ سکیم کے بعد انصاف فوڈ کارڈ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک فلیگ شپ اور غریب پرور منصوبہ ہے ، صوبائی حکومت ایک اور اہم سکیم ایجوکیشن کارڈ پر بھی کام کر رہی ہے اور عنقریب ایجوکیشن کارڈ کا بھی اجراء کیا جائے گا۔

مزید دیکھیں :   ضمنی الیکشن کےبعد وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب ہوگا