مچھلی کے جائے کو تیر ناکو ن سکھائے

سابقہ مشرقی پاکستان فوجی نہیں بلکہ سیاسی نا کامی تھی ، جی ایچ کیومیں یوم دفاع وشہداء کی مناسبت سے منعقد ہ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے پاکستان کے سپہ سالا ر قمر جاوید باجوہ نے یہ فرمایا ساتھ ہی یہ بھی فرما دیاکہ وہ بطور آرمی چیف آخری خطاب کر رہے ہیں ، جہاںتک سابق مشرقی پاکستان کے سقوط کو سیاسی ناکامی سے باندھنے کی بات ہے اس سے کلی طور پر اتفاق نہیں کیا جا سکتا ،کیو ں جوبحران مغربی پاکستان سے سیاست کی آڑ میں پیدا کیا گیا تھا اس کو مشرقی پاکستان میں ڈنڈے کی طاقت سے حل کر نے کی سعی کی گئی تھی جس میںچند باوردی اعلیٰ افسر شریک کار تھے جبکہ ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم جنہوں نے ملک میں سیاسی بحران پیدا کیا تھا جب جنرل یحییٰ کے وزیر خارجہ کی حثیت سے چین تشریف لے گئے تھے تب چین کے عظیم لیڈر ما ؤزے تنگ نے پاکستانی وفد کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بحران کا سیاسی حل تلا ش کر ے جواس امر کا جو از ہے کہ اس بحران کو سیاسی بنیا د و ں پر حل کی کوئی مساعی نہیں کی گئی ، اسی طرح جب مشرقی پاکستان کے حالات بہت نا گفتہ بہ ہو چلے تب جنرل یحییٰ خان کچھ سیا ست دانوں کے ہمر اہ ڈھاکا تشریف لے گئے تاکہ سیا سی سطح پر بات چیت ہو سکے اس وفد میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی کے رکن عبدالولی خان جیسے زیر ک سیاست دان بھی شامل تھے ان کو شیخ مجیب تک رسائی حاصل تھی چنا نچہ ولی خان نے شیخ مجیب سے ملاقات کر کے سیا سی مذاکرات میں شریک ہو نے کا کہا جس پر شیخ مجیب الرّحما ن نے جو جو اب دیا اس کا ذکر عبدالولی خا ن متعدد بار اپنی تقاریر میں کرچکے ہیں کہ شیخ مجیب نے ان سے کہا کہ آپ مذاکرات کی بات کررہے ہیں، اس وقت سیاسی بحران پیدا کر نے والو ں میں سیا سی قیا دت کے ساتھ ساتھ چند باوردی بھی یکجا تھے ، حالاںکہ سید ھاسادہ معاملہ تھاکہ قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر نے والی جماعت کو اقتدار منتقل کر دیا جا تا تو کوئی سیاسی یا غیر سیا سی بحران پیدا نہ ہو تا ، پھر جن عنا صر نے بحران بے سوچے سمجھے پیدانہیںہو اتھا ، سپہ سالا ر پاکستان نے اپنے خطاب میں فوج کی قوم کے لیے خدمات کا بھی ذکر کیا مختصر وقت میںاتنی ہی خدمات کا ذکر کیا جا سکتا تھا جب کہ فوج کی اپنی قوم کے لیے ان مو ل خدما ت کی طویل ترین فہر ست موجو د ہے یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کی فوج نے اپنی استطاعت سے بڑھ کرخدمت کی ہے .جس کاکوئی بدل نہیں ہو سکتا جو پاکستان کے عوام کے لیے قابل فخر اور عظیم سرما یہ ہے اور پوری قوم اپنی قابل فخر فوج کو ان خدمات پر سلام پیش کر تی ہے ، جہا ں تک فوجی شکست کی بات ہے تواس معاملے میں سپہ سالا ر پاکستان سے سو فی صد نہیں بلکہ لاکھو ں فی صد اتفاق ہے کیو ں کہ پاک فو ج کو مشرقی سیکٹر میں شکست کا سامنا نہیں ہو ا ، مشرقی پاکستان کے کھلنا سیکٹر پر بریگیڈیر حیا ت خا ن مر حوم کمان سنبھالے ہوئے تھے ، انھوں نے جنگ بندی کے وقت جنگ بند کر نے سے انکا ر کر دیا تھاکیو ں کہ وہ بھارت کی سرحد وں میں کئی میل تک پیش قدمی کر چکے تھے ، سپہ سالا ر جنرل قمر باجوہ نے اپنے خطاب میں بعض سیا ست دانو ں کو ان کے سیاسی اور غیر سیا سی کردار کا بڑاہی شفاف آئینہ بھی دکھا دیا ،اب ان سیاسی شخصیا ت کو چاہیے کہ وہ اپنی شیشہ گری کی بجائے آئینہ میں اس میںچہر ہ نمائی کرکے اپنے گال لا ل پیلے کر یں ،بڑی حقیقت پسندی کا سپہ سالار نے مظاہر ہ کیا ، وہ جو کہتے ہیں کہ سو سونار کی ایک لوہا ر کی ،جن شخصیات کو آئینہ دکھایا گیا ہے انھوں نے اپنی سیاست میںشروع دن سے ہی ہر کسی کے گردے چھیلنا شروع کردئیے تھے اور اب بھی یہ طرز جاری ہے ، سپہ سالا ر کے خطاب سے تو اب ان کے گردے سرخ ہو رہے ہوں گے ، چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری جو کبھی نہ تو مسئلہ رہی نہ متنا زعہ بنی ہے مگر اس مرتبہ کچھ اور ہی کھیل کھیل دیا گیا ہے ، آئین میں ہے کہ وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے سپہ سالا ر پا کستان کی تقرری ، لیکن فوج میں ایسی تقرری کے لیے جو قواعد وضوابط درج ہیں اس میں ہے کہ جب لیفٹنٹ جنرل یا اس کے مساوی یا اس سے ارفع عہد ے کی تقرری کی جائے گی تو وزیر اعظم صدر پاکستان سے مشورہ کر کے روبہ عمل ہو گا ،لیکن عارف علوی کا اب تک جو سیا سی رحجا ن دیکھنے کو ملا ہے اس کے مطابق یہ اندیشہ وکھٹکا ہے کہ کہیں صدر مملکت ان قواعد وضوابط کو بنیا د بنا کر تقرر کی سمر ی کو چند دن روک نہ لیں اور پھر رد کر دیں گما ن یہ بھی کیا جا رہاہے کہ اس معاملہ کو اس قدر لٹکا دیا جائے گا کہ اس عر صہ میں جس جنرل کو آرمی چیف بنا نا کہ کی خبریںگردش کررہی ہیں ان کے سبکدوش ہو نے کی گھڑی آبھی جائے گی اور روبہ عمل ہو کر گزر بھی جائے گی تب سمری واپس ہو گی ، یہ سب اندیشے ہیں چنانچہ چوسر کے اس کھیل میں بازی پلٹ دی جائے چنا نچہ سابق وزیر اعظم عمر ان خان نیا زی نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ نئے چیف کی سمری کے بعد وہ اور صدر علوی دونو ں مل کرآئین وقانو ن کے مطا بق کھیلیں گے ،چنا نچہ حکومت نے ایک نکاتی ایجنڈے پر کابینہ کا اجلا س طلب کر لیا ہے جس میں ایسے تما م قواعد وضوابط میں ترمیم کر نے کی منظوری لے لی جائے گی جب قارئین یہ کالم پڑھ رہے ہو ں گے اس وقت تک یہ عمل ظہو ر پذیر ہو گیا ہو گا کا بینہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ قواعد و ضوابط میں ترمیم کرے ، جس کو عدالت میںچیلنچ بھی نہیںکیا جا سکتا ، ادھر گزشتہ بدھ کے روز حکومتی اتحا د میں شامل پارٹیوں کا اجلاس منعقد ہو ا ، اس اجلا س میں ابتدائی تمہید کے بعد وزیراعظم نے سابق صدر پاکستان آصف زرداری کو اظہا ر رائے کی دعوت دی جس پر آصف زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب آپ جو فیصلہ کریں گے وہ انھیں قبول ہو گا ، وزیر خارجہ بلا ول بھٹونے بھی آصف زرداری کی تائید کی جس کے بعد اجلا س کے تما م شرکا ء نے جن میں ایم کیو ایم بھی شریک تھی وزیر اعظم کے مجو زہ فیصلہ کی تائید کی البتہ محسن داوڑ نے ذرا ہٹ کر ایک تجو یز دی کہ وزیر اعظم ان سنئیر جنرلز کا انٹرویو کر لیں ، جس پر سب کے چہر ہ پر مسکراہٹ بھی نمو دار ہوئی اور وزیراعظم شہبازشریف نے ازراہ تفنن استفسار کیا کہ دونو ں عہدوں کے لیے یا صرف ایک کے لیے ، تاہم محسن داوڑ نے شہباز شریف کے مجو زہ فیصلے پر بھر پو ر اعتما د کا اظہا ر کیا ، تاہم اس اجلاس کی یہ خوبی رہی کہ اجلاس کے شرکاء میں سے کسی نے استفسار نہیںکیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کس شخصیت کی تقرری کرنے کے خواہا ں ہیں ۔اجلا س کا ماحول بنا کے لیے وزیر اعظم نے سب سے پہلے آصف زرداری کو اظہار رائے دعوت دی یہا ں یہ یاد رکھناچاہیے کہ ایک روز قبل آصف زرداری نے وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم پاکستان سے ملا قات کی تھی جس کے بارے میںکہا گیا ہے کہ وہ وزیراعظم کی عیادت کے لیے آئے ہیں ۔

مزید دیکھیں :   سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں