احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات

انٹر نیٹ پر دوستی اور شادیوں کے حوالے سے میں نے پچھلے کالم میں چند گزارشات پیش کی تھیں، شادی شدہ خواتین اپنے شوہر او بچے چھوڑ کر یہ سمجھ رہی ہیں کہ اب ان کو محبت اور عزت ملے گی اور معاشرہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گا، جس نے اپنے شوہر سے وفا نہ کی وہ کسی اور سے کیا وفا کرے گی،بھارت سے آنے والی شادی شدہ خاتون نے ضلعی عدالت دیر میں نصراللہ سے نکاح کر لیا تھا، اسی طرح اسی انٹرنیٹ ہی کے ثمرات ہیں کہ چند ماہ قبل امریکی خاتون بھی ننکانہ صاحب پہنچ گئی اور گوجرانوالہ کی عائشہ نامی خاتون تنسیخ نکاح کے لئے عدالت پہنچ گئی کیونکہ ان کے خیال میں انہیں اپنے شوہر سے نہیں بلکہ سعودی شہری جبران سے اصلی اور سچی محبت ہو گئی ہے، قارئین کرام کسی بھی ایجاد کو اس کا استعمال اچھا یا برا بناتا ہے، موبائل فون نے، جہاں رابطوں کو آسان کیا ہے، وہیں اس کے بے جا استعمال نے بہت سی نفسیاتی الجھنوں کو بھی جنم دیا ہے اور بات تب زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے کہ جب ایک چھ ماہ کے بچے کو بہلانے کے لیے موبائل کی سکرین کا سہارا لیا جاتا ہے، بچے کا ذہن، جس کے لیے ہر رنگ برنگی اور حرکت کرتی چیز کشش اور سکون کا باعث ہوتی ہے، وہ اس کی جانب کھنچ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ اس کا عادی ہو جاتا ہے، والدین اسی بات کو سکون سمجھ کر سکھ کا سانس لیتے ہیں بنا یہ جانے کہ وہ خود اپنے بچے کے لیے ایسا شکنجہ تیار کر رہے ہیں کہ اس کا انجام انٹرنیٹ کی دوستیاں پھر شادیاں اور بدنامیاں ہیں، انٹرنیٹ کے بے جا استعمال کا ایک نقصان یہ ہے کہ وہ بے حیائی وعریانی پھیلانے، فسق وفجور کے مناظر پیش کرنے کا سب سے بنیادی اور سستا ذریعہ ہے، اس کے ذریعہ اخلاقی ودینی تباہی، نوجوان مرد وخواتین کی بے راہ روی بہت عام ہو رہی ہے، ایک اور نقصان یہ ہے کہ ہ وقت کے بے تحاشا ضیاع کا سبب ہے، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے کثرتِ استعمال سے وہ بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں جو منشیات کے استعمال سے پیدا ہوتی ہیں اور ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ ہمارے بچے اسی انٹر نیٹ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اب محنت سے جان چھڑاتے ہیں اور پڑھنا اور لکھنا اب زیادہ پسند نہیں کرتے، انٹرنیٹ کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ یہ دوسروں کی معلومات چُرالینے کا ذریعہ بن گیا ہے اور ہمارے معاشرے پر انٹرنیٹ کے ہونے والے سب سے منفی اثرات میں سے اولاد اور والدین، میاں بیوی اور دیگر قریبی رشتہ داروں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریاں ہیں، ایک دوسرے کے حقوق بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، گھروں میں ناچاقیاں بڑھ رہی ہیں، خاص کر میاں بیوی کے درمیان تلخیاں بڑھ رہی ہیں، انٹرنیٹ کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے دینی معاملات میں غلط معلومات شائع کی جاتی ہیں، ہمارے معاشر ے میں ہونے والے تمام جرائم جس میں چوری ڈکیتی،دہشت گردی، فرقہ واریت،گھروں میں لڑائی جھگڑے، تعلیمی اداروں میں دہشت گردی حتیٰ کہ معاشر ے میں ہونے والے تمام جرائم اور دہشت گردی کے پیچھے موبائل فون کا بڑا کردار ہے، اس بارے میں موبائل کمپنیوں کا کردار بھی بہت منفی ہے، یہ اپنے جائز و ناجائز منافع کی خاطر لوگوں کو نت نئے پیکیج دیتے رہتے ہیں، سادہ لوح لوگ آسانی سے ان کی چال میں آجاتے ہیں جس سے ہماری نوجوان نسل پر مسلسل انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں،ان پیکیجز کے حوالے سے کسی بھی پوچھیں تو وہ یہی کہے گا کہ ان پیکیجز نے ہمارے نوجوان نسل کا بیڑا غرق کردیا ہے، اور چھوٹے بچوں کے حوالے سے حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ بچوں کا ذہن بڑوں کے مقابلے میں دو گنا ریڈیو ایکٹیو ویویز جذب کرتا ہے اور یہی لہریں بون میرو بڑوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ جذب کرتا ہے، اسی لیے موبائل سکرین کا ابتدائی عمر میں استعمال اور بے تحاشا استعمال بہت سی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، موبائل کے استعمال میں آنکھوں کو نامحسوس انداز سے سکیڑنا پڑتا ہے، جو بچے کی نظر پر زیادہ بوجھ ڈالتا ہے، اس کے علاوہ موبائل کے نتائج میں نیند کی کمی بھی ایک اہم بیماری کے طور پر سامنے آئی ہے، اس کے علاوہ زیادہ دیر تک جھکنے کی وجہ سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے مہرے بھی متاثر ہوتے ہیں، بچے موبائل زیادہ استعمال کرتے ہیں اور آس پاس موجود لوگوں سے بات چیت نہیں کرتے، یہاں یہ بھی معلوم رہے کہ پاکستان میں ستر فیصد سے زیادہ نوجوان موبائل فون کومنفی کاموں میں استعمال کررہے ہیں جب کہ حکومتیں بھی اس اہم معاملے میں لاپرواہی برتتی ہیں، اب یہ ہم تک ہے کہ اگر ہم موبائل فون کا ٹھیک استعمال کریں گے تو یہ ہمارے لیے نفع کا باعث بنے گا اور اسی طرح اس کا غلط استعمال ہمارے لیے مزید تباہی لے کر آئے گا، ہم میں سے ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ اس معاملے کی سنجیدگی کا احساس کرتے ہوئے چند احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کرے، مسلسل تیس منٹ سے زیادہ موبائل فون کا استعمال نہ کریں، اسی طرح فون کو اپنے جسم سے دور رکھیں،جب سگنل کمزور ہوں تو موبائل فون استعمال نہ کریں، مجبوری ہو تو کم سے کم استعمال کریں،رات سوتے وقت فون کو اپنے بستر کے قریب نہ رکھیں،موبائل فون پر وڈیو یا آڈیو اسٹریمنگ کم سے کم کریں یا بڑی بڑی فائلیں ڈائون لوڈ یا اَپ لوڈ نہ کریں،دائیں کان کے بجائے بائیں کان پر موبائل فون استعمال کریں، بچے فون کو آنکھوں کے بالکل نزدیک یا لیٹ کر استعمال نہ کریں اور ،فون کی روشنی کو بھی کم رکھیں، بہت سے والدین انٹرنیٹ کی وجہ سے اپنی اولاد کی بے راہ روی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں، اور جیسا کہ میں نے پہلے کئی مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ بہت سی خواتین کو جب انٹرنیٹ کے توسط سے سبزباغ دکھائے گئے اور وہ دھوکہ کھا کر اپنے گھروں سے بھاگ گئیں، لیکن ان کے حصے میں دین اور دنیا کی ذلت اور رسوائی آئی، اس معاملے کے تدارک اور اس سے متعلق آگاہی کے بارے میں منبر ومحراب اور تعلیمی اداروں کا بھی کوئی کردار نظر نہیں آرہا ہے، اسی طرح اصل ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ اپنی اولاد اور بچوں کو انٹرنیٹ کے نقصانات اور منفی گوشوں سے اچھی طرح آگاہ کریں اور اُنہیں حتی الوسع انٹرنیٹ سے دور رہنے اور اس کے نقصانات سے بچنے کی تلقین کریں اور ان کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کریں، ان کو اس طرح آزاد ہرگز نہ چھوڑیں کہ وہ جو چاہیں کریں، لیکن بے حد افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے اکثر والدین بھی اس لت کا شکار ہو گئے ہیں، یاد رہے کہ قانوں فطرت کے عین مطابق ہم نے جو بویا ہے وہی کاٹ رہے ہیں اور ڈریں اس وقت سے کہ جب آج کا بویا ہوا کاٹنا پڑے گا، حکیم الامت علامہ اقبال نے قریبا سو سال پہلے اس کی کیا خواب عکاسی فرمائی تھی
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات

مزید پڑھیں:  ریڈیوپاکستان کے پنشنرز کے ساتھ ناروا سلوک