یہ بھی کوئی روایتی مجلس نہ ثابت ہو

توقع ہے کہ مکہ مکرمہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں انٹرنیشنل اسلامی کانفرنس کسی ٹھوس لائحہ عمل کے فیصلے کے بعد ہی اختتام پذیر ہوگی سعودی عرب کے وزیر اسلامی امور کا کہنا ہے کہ اس کے انعقاد کا مقصد مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا فروغ، دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے مملکت کے مشن کو آگے بڑھانا تھا جس سے مسلم ممالک اور عالمی سطح پر امن، خوشحالی اور استحکام آئے۔امر واقع یہ ہے کہ متعدد یورپی ممالک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات بار بار ہوئے۔ یورپی ممالک میں مقدس کتاب کی بے حرمتی کی مذمت پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جانا چاہئے۔ایسے میں یہ کانفرنس زبردست چیلنجوں اور اسلامی اقدار کے نظام کو اکھاڑ پھینکنے والی کوششوں کے ماحول میں ہورہی ہے۔ سیاسی اسلام کے علمبردار اسلام کے اعلی تصورات کو یرغمال بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ایسے میں یہ کانفرنس نئے حالات کے حوالے سے امت مسلمہ کی بنیادی ضرورت کی تکمیل کے لیے ہورہی ہے۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کانفرنس اسلام کی تصویر مسخ کرنے کی کوششوں، فکری چیلنجوں اور سیاسی تبدیلیوں کے جس ماحول میں ہورہی ہے۔حالات کا تقاضا ہے کہ ان جارحانہ رجحانات کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور اسلامی اتحاد کے تصور کو اجاگر کریں ۔ہر اسلامی پلیٹ فارم اور فورم کی حقیقت بدقسمتی سے بس اتنی رہ گئی ہے کہ نشتند وگفتند و برخواستند ہی کو امت اسلامیہ کے اتحاد کے لئے کافی جانا جاتا ہے اس لئے طاغوتی طاقتوں اور اسلام کے خلاف انفرادی و اجتماعی کوشش کرنے والوں پراس کا کوئی اثر نہیں پڑتا انٹرنیشنل اسلامی کانفرنس کا متوقع اختتام بھی اعلامیہ جاری کرنے کی حد تک ہی ہونے کا امکان نظر آتا ہے اگر ایسا ہوا تو اس کا انعقاد چنداں فائدہ مند ثابت نہ ہوگا اس موقع پر کم از کم سفارتی طور پر احتجاج ہی کا کوئی موثر لائحہ عمل وضع کیا جائے اور مشترکہ طور پر ان ممالک سے احتجاج کیا جائے جہاں توہین کی سرکاری سطح پراجازت دی جاتی ہے اور اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی جاتی ایسے میں کم از کم اس اقدام کا متفقہ فیصلہ ہونا چاہئے ان کی مصنوعات کابائیکاٹ موثر اقدام ہوگا ساتھ ہی اقوام متحدہ کو آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے جہاں تک انفرادی طور پر مسلمانوں کی جانب سے رد عمل کا تعلق ہے اس ضمن میں مجاہدانہ کردار ادا کرنے کی ذمہ داری ہی پوری نہیں کی جاتی بلکہ سویڈن میں جس مقام پر قرآن عظیم کو نذر آتش کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی تھی وہ جگہ ہی مسلمانوں نے چندہ جمع کرکے خریدی اور اب وہاں مسجد کی تعمیر کا منصوبہ ہے جب تک امت مسلمہ حکومتی سطحوں پر بھی اس طرح کے عملی اقدامات کی طرف متوجہ نہیں ہوتی اور لاحاصل مشاورت ہوتی رہے گی ناپاک جسارت کرنے والوں کی سرپرستی اور تحفظ ہوتا رہے گا اور اس کی عملی روک تھام شاید ہی ہو۔

مزید پڑھیں:  حکومتی کارکردگی کا امتحان شروع