وزیراعظم کاعزم اوربجلی کے جھٹکے

بجلی کے نرخوں میںمسلسل اضافے سے عوام پرپڑنے والی افتادرکنے کانام نہیں لے رہی ہے،جبکہ تازہ ملنے والی بعض اطلاعات کے مطابق حکومت پہلے ہی سے مشکل صورتحال سے دوچارعوام کومزیدبجلی کے جھٹکے لگانے کیلئے 4.37روپے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کی تیاری کررہی ہے اور اگلے چارماہ کے دوران عوام سے اضافی 122ارب روپے کی وصولی کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے،جس سے صارفین پررواں مالی سال کے دوران اضافہ721ارب روپے ہوجائیگا،گزشتہ سال236ارب روپے کااضافی نقصان ہواتھا،قیمتوںمیں اضافے کے بعدبھی پاورسیکٹرکی آمدن کاتخمینہ2.5ٹریلین روپے جبکہ اخراجات 3.48 ٹریلین روپے ہیں،گویااس شعبے میں نقصان کاسلسلہ جاری رہے گا،ادھرنگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑنے کہا ہے کہ معاشی چیلنجوںکوباوجود معیشت کیلئے ہماراعزم غیرمتزلزل ہے،توانائی اور بجلی کے شعبے میں اصلاحات پرعملدرآمدیقینی بنائیں گے،ان خیالات کااظہارانہوں نے اپنے ٹوئٹ اور وزیرتوانائی وبجلی اور پٹرولیم محمدعلی سے ملاقات میںگفتگوکرتے ہوئے کیا،انہوں نے مزیدکہاکہ توانائی اور بجلی کے شعبے کی اصلاحات ملکی معاشی استحکام اور ترقی کیلئے انتہائی اہم ہیں،ادھریہ خبربھی گردش کررہی ہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے آئیسکوکی وصولی 55فیصد رہ گئی ہے،امرواقعہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بڑے منت ترلوںکے بعدبڑی مشکل سے جومعاہدہ رخصت ہونے والی پی ڈی ایم حکومت نے کیا،بجلی نرخوں میں مسلسل اضافہ اسی کاشاخسانہ ہے جس کے ڈانڈے سابقہ تحریک انصاف حکومت کے یوٹرن لیتے ہوئے آئی ایم ایف معاہدے پرعمل درآمد نہ کرنے کی پاداش کے ساتھ ملتے دکھائی دیتے ہیں،کیونکہ جب سابق وزیراعظم عمران خان کویقین ہوگیا کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتمادہرصورت کامیاب ہونے والی ہے توانہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پریوٹرن لیتے ہوئے ملکی معیشت میں”اقتصادی بارودی سرنگیں”بچھانے کی کارروائی کرتے ہوئے ایسے اقدام کئے جن کی وجہ سے آئی ایم ایف نے معاہدے کے تحت قرض کی رقم نہ صرف دینے سے انکارکردیا بلکہ آنے والی حکومت کیلئے شدیدمشکلات پیداکیں،اس حوالے سے لیگ(ن)کے قائداورسابق وزیراعظم نوازشریف کے تازہ بیان میںصورتحال کی وضاحت سامنے آئی ہے جنہوںنے موجودہ مہنگائی کوسابقہ پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوںکاشاخسانہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ”سابق سیلیکٹڈکٹھ پتلی اور اناڑی ٹولے نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے جس کاخمیازہ آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی،مہنگائی کاجوجن بے قابو ہے یہ پی ٹی آئی حکومت کی ناقص پالیسیوںکی وجہ سے ہے”۔جہاں تک تحریک انصاف حکومت کی مبینہ غلط پالیسیوںکاتعلق ہے اس میںکوئی شک وشبہ نہیںہے اورحالات حقائق کی نشاندہی کررہے ہیںکہ سابق وزیراعظم وعمران خان نے محض اپنے اقتدارسے محرومی کی وجہ سے ملک وقوم کوشدیداقتصادی ،معاشی اورعالمی بحران میںمبتلاکرکے اسے ڈیفالٹ کے خطرات سے دوچارکیا،اقتدارسے محرومی کے بعدبھی درپردہ وہ اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کوقرضہ دینے سے انکارکرتارہے بلکہ امریکہ میں جن لابنگ اداروںکیساتھ بھاری معاوضوںپرمعاہدے کیے گئے ان اداروںنے بھی امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے ارکان پردباؤ ڈالا کہ وہ امریکی حکومت اور آئی ایم ایف کے تعاون کی راہ میں مزاحم ہوں،جس میں وہ کسی حد تک توکامیاب رہے مگرمکمل طورپرسابق تحریک انصاف لیڈروں کے عزائم کی تکمیل نہ ہوسکی،تاہم اس سب تگ ودوکانتیجہ یہ ہوا کہ آئی ایم ایف نے سابقہ اتحادی حکومت کوناکوں چنے چبوائے اور نہایت ہی سخت شرائط پرمعاہدہ کروایا،جس کی شرائط میںیوٹیلٹی بلزمیںمسلسل اضافہ اب ناگزیرہوچکاہے اورجس کے تحت بجلی نرخوںمیں مسلسل اضافے سے عوام پرمزیدمہنگائی ہوتی رہے گی۔تاہم بجلی نرخوںمیںاضافے سے ملکی معیشت کے سنبھلنے کے امکانات پرسوال اٹھتے رہیں گے،اس لئے کہ اضافی قیمتوںکے اطلاق سے صنعت کاپہیہ جام ہونے کے خطرات سرپرمنڈلاتے رہیں گے،مہنگی بجلی سے بڑھتے ہوئے اخراجات سے کارخانے بندہونے،زراعت کے شعبے میں خصوصاًٹیوب ویلوںکوچالورکھ کرزرعی زمینوںکوپانی کی فراہمی میںمشکلات کاسامنا کرنے سے تمام شعبوںکے اخراجات بڑھیں گے جبکہ صنعتی شعبے کی پیداوارمہنگی ہونے کی وجہ سے بیرون ملک مسابقت میں نقصان ہونے کی وجہ سے برآمدات پرمنفی اثرات مرتب ہوں گے،زرعی اجناس مہنگی ہوں گی اور مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ رکنے کانام نہیں لے گا،جبکہ عوام کی قوت خرید شدید طور پر متاثر ہوگی،ان حالات میں وزیراعظم انوارالحق کاکڑنے بجلی اورتوانائی کے شعبے میںجن اصلاحات کی بات کی ہے اگر اس سلسلے میں وہ وضاحت کردیتے کہ یہ اصلاحات کیا ہیں اور ان سے ملک کوکیسے مستفیدکیاجاسکے گا،اور کیاان مجوزہ اصلاحات سے بجلی کے نرخوںمیںکمی کے امکانات روشن ہوسکیں گے؟توشاید عوام میں اطمینان کی لہرپیداہونے کے امکانات پیدا ہو سکیں، بصورت دیگرعوام پرجوافتادپڑرہی ہے اس کے نتائج بے چینی،بے قراری اور مایوسی کے سواکچھ بھی نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیں:  انہونیوں کے موسم کی دستک