مشرقیات

سب جانتے ہیں کہ بے بنیاد باتوں کو لوگوں میں پھیلانے، جھوٹ بولنے اور افواہ کا بازار گرم کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ ہاں! اتنی بات تو ضرور ہے کہ یہی جھوٹ، چاہے جان کر ہو، یا انجانے میں ، کتنے لوگوں کو ایک دوسرے سے بدظن کردیتا ہے، یہ لڑائی، جھگڑے اور خون وخرابے کا باعث ہوتا ہے، کبھی تو بڑے بڑے فساد کا سبب بنتا ہے اور بسا اوقات پورے معاشرے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔ جب جھوٹ بولنے والے کی حقیقت لوگوں کے سامنے آتی ہے، تو وہ بھی لوگوں کی نظر سے گرجاتا ہے، اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے اور پھر لوگوں کے درمیان اس کی کسی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔
انسان جب بھی کچھ بولتا ہے تو اللہ کے فرشتے اسے نوٹ کرتے رہتے ہیں، پھر اسے اس ریکارڈ کے مطابق اللہ کے سامنے قیامت کے دن جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:ترجمہ: وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا، مگر اس کے پاس ہی ایک تاک لگانے والا تیار ہے۔ (سورہ ق)
یعنی انسان کوئی کلمہ جسے اپنی زبان سے نکالتا ہے، اسے یہ نگراں فرشتے محفوظ کرلیتے ہیں۔ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں، خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب اور خیر یا شر ہو یا نہ ہو۔
امام احمد نے بلال بن حارث مزنی سے روایت کیا ہے کہ رسولِ اکرم ۖ نے فرمایا: انسان بعض اوقات کوئی کلمہ خیر بولتا ہے، جس سے اللہ تعالی راضی ہوتا ہے، مگر یہ اسے معمولی بات سمجھ کر بولتا ہے، اسے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کا ثواب کہاں تک پہنچا کہ اللہ تعالی اس کے لیے اپنی رضائے دائمی قیامت تک کیلیے لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح انسان کوئی کلمہ اللہ کی ناراضی کامعمولی سمجھ کر زبان سے نکال دیتا ہے، اسے گمان نہیں ہوتا کہ اس کا گناہ ووبال کہاں تک پہنچے گا؟ اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس شخص سے اپنی دائمی ناراضی قیامت تک کے لیے لکھ دیتا ہے۔ (ابن کثیر)
جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ ہے اور یہ ایسا گناہِ کبیرہ ہے کہ قرآن کریم میں، جھوٹ بولنے والوں پر اللہ کی لعنت کی گئی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:لعنت کریں اللہ کی ان پر جو کہ جھوٹے ہیں۔(سورہ آلِ عمران)
جیسا کہ مندرجہ بالا قرآنی آیات میں جھوٹ اور بلا تحقیق کسی بات کے پھیلانے کی قباحت و شناعت بیان کی گئی ہے، اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی اس بدترین گناہ کی قباحت وشناعت کھلے عام بیان کی گئی ہے۔ ہم ذیل میں چند احادیث مختصر وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں: ایک حدیث میں یہ ہے کہ جھوٹ اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے، لہذا اللہ کے رسول ۖ نے جھوٹ کو ایمان کے منافی عمل قرار دیا ہے۔ حدیث ملاحظہ فرمائیے:حضرت صفوان بن سلیم بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول ۖ سے پوچھاگیا: کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ ۖ نے جواب دیا: ہاں۔ پھر سوال کیا گیا: کیا مسلمان بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ ۖ نے فرمایا: ہاں۔ پھر عرض کیا گیا: کیا مسلمان جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ ۖ نے فرمایا: نہیں (اہل ایمان جھوٹ نہیں بول سکتا۔
جھوٹ ایک ایسی بیماری ہے جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ لوگوں کے درمیان لڑائی، جھگڑے کا سبب بنتی ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان عداوت و دشمنی کو پروان چڑھاتی ہے۔ اس سے آپس میں ناچاقی بڑھتی ہے۔ اگر ہم ایک صالح معاشرے کا فرد بننا چاہتے ہیں، تو یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم لوگوں کو جھوٹ کے مفاسد سے آگاہ اور باخبر کریں، جھوٹے لوگوں کی خبر پر اعتماد نہ کریں، کسی بھی بات کی تحقیق کے بغیر اس پر رد ِعمل نہ دیں۔