عوامی بغاوت کا خطرہ

روپے کی قدر میں کمی ‘ فیول کی قیمتوں میں اضافہ اور پاور سیکٹر کی ناکامی تین ایسے بنیادی عوامل ہیں جو بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافے کا باعث ہیں آئی ایم ایف سے معاہدے کی سخت شرائط سے بھی صرف نظر ممکن نہیں مگرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک بجلی بلوں میں اضافہ ہوتا رہے گا اور عوام آخر کب تک یہ اضافہ برداشت کرتے رہیں گے ایسا لگتا ہے کہ اب ہر دو جانب اضافہ اوراضافے سے متاثر ہونے والے دونوں آمنے سامنے آگئے ہیں اور عوام کی جانب سے بجلی بلوں کی ادائیگی سے انکار اور احتجاج کا عنصر روز بروزبڑھتا جارہا ہے۔پشاور سمیت ملک بھر میں بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کیخلاف عوام میں شدید اشتعال پھیل گیا ہے اورلوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے بجلی کے بل جلا دئیے گزشتہ روز پشاور کے علاقے مختلف علاقوںمیں بجلی کے بلوں میں اضافہ کے خلاف شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بلوں میں اضافہ واپس لیا جائے بصورت دیگر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہونگے دوسری جانب کراچی، لاہور، راولپنڈی سمیت پنجاب کے مختلف شہروں، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں بھی شہریوں نے بجلی بلوں کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے بل جلا دئے مظاہرین کے پرتشدد احتجاج کے خدشہ کے پیش نظر بجلی کی تقسیم کار کمپنی نے دفاتر کی سکیورٹی کے لئے پولیس طلب کرلی ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ابھی ترکش میں کئی تیر باقی ہیںاور بجلی کے بلوں میں راکٹ کی رفتار سے بار بار اضافے کا سلسلہ ابھی قریب الاختتام بھی نہیں بلکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی کی قیمتوں(ٹیرف)میں سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے کی درخواست کی ہے۔ بجلی کی ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا کے مطابق سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں تقسیم کار کمپنیاں 146 ارب روپے صارفین سے اضافی ریکور کرنا چاہتی ہیں۔واضح رہے کہ نیپرا نے جولائی میں بجلی کے ٹیرف میں چار روپے 96 پیسے اضافہ کیا تھا جو کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے قلیل مدتی قرضہ پروگرام کی منظوری دیتے وقت رکھی گئی ایک شرط تھی۔نیپرا کے اعلامیے کے مطابق چیئرمین نیپرا اس وقت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کی درخواستوں پر غور کر رہے ہیں۔تقسیم کار کمپنیوں نے چوتھی سہ ماہی کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ٹیرف میں اضافے کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔بیان کے مطابق سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کمپنیوں نے 146 ارب روپے کی ریکوری کی درخواست کی ہے جس کا اثر 5.4 روپے فی یونٹ تک ہوگا۔ایسے میں جبکہ بجلی کے بلوں میں مزید 5.4 روپے فی یونٹ کا ممکنہ اضافے ابھی زیر غور ہے اور بلوں میں کم و بیش رقم کا مزید شامل ہونا باقی ہے عوام میں ایک طرح سے بغاوت اور شدید اشتعال کی لہر چل گئی ہے جس کی وجہ سے بجلی بلوں کا عوام کی استطاعت سے باہر ہونا ہے نیز اس امر کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ حکومت نے عوام سے ناانصافی کی حد کر دی ہے اب اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا جب اس طرح کی ایک اجتماعی عوامی لہر اٹھتی ہے تو یہ لہر تمام سیاسی اختلافات اور دیگر تضادات پر غالب آتا ہے اور حکومت کے لئے اسے قابو کرنا ناممکن ہوجاتا ہے اس قدرشدید لہر کے باوجود حکومتی سطح پر امن وا مان کی صورتحال بارے کوئی تشویش نظر آتی ہے اور نہ ہی مذاکرات کی کوئی صورت اختیار ہوتی دکھائی دے رہی ہے عوام نے کم و بیش اس مرتبہ تہیہ کئے نظر آرہے ہیں کہ وہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی سے متفقہ طور پر انکار کر رہے ہیں اس طرح کی اجتماعی صورت پیدا ہو تو بلوں کی وصولی ہی ناممکن نہیں ہوئی بلکہ بجلی بند کرنے کی کسی غلطی کا خمیازہ بھی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوںاور حکومت کو بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔ ایک جانب محولہ صورتحال ہے تو دوسری جانب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اضافی ایندھن کے اخراجات اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ چارجز کی وصولی کی تیاری ہو رہی ہے جو پچھلے مہینوں میں استعمال کی گئی تھی صرف یہی نہیں بلکہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے پیش نظر بھی آنے والے مہینوں میں بجلی کی پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کا امکان ہے یہ ساری صورت حال عوام کی استطاعت کی آخری حدوں کو چھو کر بھی گزر گئی اور ستم بالائے ستم یہ کہ حکام کے پاس شہریوں کے خدشات اور غم وغصہ کم کرنے کاکوئی سامان نہیں توانائی کی تقسیم کے انتہائی غیر موثر انفراسٹرکچر سے پیدا ہونے والے لائن لاسز بجلی کی بے تحاشہ اور کھلے عام چوری اور وہ بہت سے پوشیدہ و علانیہ ٹیکسں کی بھر ماراور مختلف قسم کی اضافی رقومات کی صورت میں ہرطرف سے صارفین پر بوجھ ڈالنا اور دبائو سنگین سے سنگین تر امر ہے حکام جنگی بنیادوں پر کام کرکے بھی اس مسئلے کا شاید ہی کوئی حل نکال سکیں حکومت اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بجلی چوری اور لائن لاسز کا بوجھ صارفین پرڈالنے کی بجائے خود ہی اٹھانا چاہئے حکومت کو ان مہنگے داموں کے معاہدوں سے اب نکلنا ہوگا اور ٹیکسوں کو معقول بنانا ہوگا۔