یہ تھے ہمارے قائد اعظم

اسی طرح قیام پاکستان کے بعد پہلی بار عید الاضحیٰ کا تہوار منایا جانا تھا، عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے مولوی مسافر خانہ کے نزدیک مسجد قصاباں کو منتخب کیا گیا اور اس نماز کی امامت کافریضہ مشہورعالم دین مولانا ظہور الحسن نے انجام دینا تھی، قائد اعظم وقت مقررہ پرعید گاہ نہیں پہنچ پائے، اس پر اعلیٰ حکام نے مولانا ظہور الحسن کو مطلع کیا کہ قائد اعظم راستے میں ہیں اور چند ہی لمحات میں عید گاہ پہنچنے والے ہیں، اعلیٰ حکام نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ نماز کی ادائیگی کچھ وقت کے لیے مؤخر کردیںتو اس پر مولانا ظہور الحسن نے فرمایا کہ میں قائد اعظم کے لیے نماز پڑھانے نہیں آیا ہوں بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوںاور انہوں نے صفوں کو درست کرکے تکبیر فرما دی، آج کوئی صدر یا وزیر اعظم کیا کسی ادنیٰ سے سرکاری افسر کو یہ کہہ کر تو دیکھے، خیرابھی نماز عید کی پہلی رکعت شروع ہوئی ہی تھی کہ اتنے میں قائد اعظم بھی عید گاہ پہنچ گئے، نماز شروع ہوچکی تھی، قائد اعظم کے منتظر اعلیٰ حکام نے قائد سے درخواست کی وہ اگلی صف میں تشریف لے چلیں مگر قائد اعظم نے منع کیا اور کہا کہ میں پچھلی صف میں ہی نماز ادا کروں گا،ایسا ہی ہوا اور قائد اعظم نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی،اسی طرح محمد حنیف آزاد کو قائداعظم کے ڈرائیور ہونے کا فخر حاصل رہا ہے، ایک بار قائداعظم نے اپنے مہمانوں کی تسلی بخش خدمت کرنے کی صلے میں انہیں دو سو روپے انعام دئیے، چند روز بعد حنیف آزاد کو ماں کی جانب سے خط ملا جس میں انھوں نے اپنے بیٹے سے کچھ روپے مانگے تھے ، حنیف آزاد نے ساحل سمندر پر سیر کرتے ہوئے قائد سے ماں کے خط کا حوالہ دے کر والدہ کو کچھ پیسے بھیجنے کی خاطر رقم مانگی، قائداعظم نے فوراً پوچھا کہ ابھی تمھیں دو سو روپے دیئے تھے وہ کہاں گئے تو حنیف آزاد بولے کہ صاحب وہ تو خرچ ہوگئے ، اس پرقائد اعظم نے کہا ”ویل مسٹر آزاد، تھوڑا ہندو بنو”اسی طرح ایک دفعہ سرکاری استعمال کے لئے سینتیس روپے کا فرنیچر لایا گیا، قائداعظم نے فہرست دیکھی تو دیکھاکہ سات روپے کی کرسیاں اضافی آئی ہیں، آپ نے پوچھا یہ کس لئے ہے توقائد کو بتایاگیا کہ آپ کی بہن فاطمہ جناح کے لئے ہیں، اس پر قائد نے وہ کاٹ کے فرمایا کہ اس کے پیسے فاطمہ جناح سے لو،اس وقت انگریزوں نے ایک قانون بنایاتھا کہ جس کے پاس بھی سائیکل ہے وہ اس کے آگے بتی لگائے ، ایک دفعہ قائداعظم نے کچھ نوجوانوں سے پوچھا کہ کون کون پاکستان میں شامل ہو گا، سب نے ہاتھ کھڑے کئے ،پھر قائد نے پوچھا کہ کس بچے کی سائیکل پربتی ہے، صرف ایک بچے نے ہاتھ کھڑا کیا، آپ نے فرمایا کہ صرف یہ پاکستان میں جا ئے گا،سب نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا جو قانون پر عمل نہیں کرتا اسے ہمارے ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں، ایک مرتبہ جب قائد بیمار تھے تو ایک خاتون ڈاکٹر ان کی خدمت پر مامور تھیں، قائداعظم نے ان سے کہا کہ آپ نے میری بہت خدمت کی ہے بتائیں میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تواس پر ڈاکٹر نے کہا کہ میرا تبادلہ میرے آبائی شہر میں کروا دیں توقائداعظمنے کہا کہ یہ میرا کام نہیں ہے،یہ وزارتِ صحت کا کام ہے، اور آج کے سیاست دان ،سارا کام انہی کا ہوتا ہے،ہر کام میں سیاسی مداخلت اپنا فرضِ عین سمجھتے ہی، اسی طرح ایک دفعہ قائداعظم گاڑی میں کہیں جا رہے تھے کہ ایک جگہ ریلوے پھاٹک بند ہوگیا،قائداعظم کا ڈرائیور اتر کے وہاں پر موجود شخص سے کہنے لگا کہ گورنر جنرل آئے ہیں، پھاٹک کھولو، مگر بانی پاکستان نے فرمایا کہ نہیں اسے بند رہنے دو، میں ایسی مثال قائم نہیں کرنا چاہتا جو پروٹوکول پر مبنی ہو، اور آج کے حکمرانوں کا پروٹوکول دیکھیں، ایسا گمان ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے تو نہ کبھی مرنا ہے اور نہ کبھی کسی بات کا حساب دینا ہے ، قائداعظم نے ان تھک اور مسلسل محنت کی ، کیونکہ ان کے سامنے ایک عظیم مقصد تھا ، باوجود اس کے کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں تھی، انہوں نے کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں ہونے دیا کہ وہ بیمار ہیں اور وہ خاموشی سے اپنی منزل کی جانب گامزن رہے، قائداعظم نے آخری وقت تک اپنی بیماری کو پوشیدہ رکھا کیونکہ ان کوبھی معلوم تھاکہ اگران کی بیماری کا ہندوؤں اور انگریزوں کوعلم ہو گیا تو ہندوستان کی تقسیم کو انگریز مؤخر کردیں گے، اسی بارے میں کئی سال بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہاتھا کہ اگر انہیں جناح کی خرابی صحت کا معلوم ہوتا تو یقینا وہ ان کی موت تک انتظار کرتے اور اس طرح ہندوستان کی تقسیم سے بچا جاسکتا تھا، اسی بارے میں مادرِ ملت فاطمہ جناح نے بھی لکھا تھا کہ جناح اپنے کامیابیوں کے دور میں بھی سخت بیمار تھے، وہ جنون کی حد تک پاکستان کو سہارا دینے کے لیے کام کرتے رہے اور ظاہر سی بات ہے کہ انہوں نے اپنی صحت کو مکمل نظر انداز کر دیا تھا، ہمیں ہمیشہ کہتا ہوں کہ کسی کی ظاہری وضع قطع نہ ہی کسی کو اللہ کا ولی بنا سکتی ہے اور نہ ہی اللہ کا گنہگار، کیونکہ اچھا بننے سے بہت آسان ہے مذہبی بننا اور ہم مذہبی بننے اور نظر آنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، قائداعظم نے مرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر کو یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان ہرگز وجود میں نہ آتا اگر اس میں فیضان نبویۖ شامل نہ ہوتا، اسی طرح حضرت پیر سید جماعت علی شاہ جو کہ اپنے دور کے بہت نیک سیرت، اللہ کے بندوں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے ایک دفعہ کہا کہ محمد علی جناح اللہ کا ولی ہے، اس پر ہم جیسے لوگوں نے کہا کہ حضرت آپ اس شخص کی بات کر رہے ہیں جو دیکھنے میں گورا یعنی انگریز نظر آتا ہے اور اس نے تو داڑھی بھی نہیں رکھی ہوئی، اس پر پیر سید جماعت علی شاہ نے فرمایا کہ تم اس کو نہیں جانتے وہ ہمارا کام کر رہا ہے، پیر صاحب کے اس دور میں تقریبا دس لاکھ کے قریب مرید تھے،اورآپ نے اعلان فرمایا تھا کہ اگر کسی نے مسلم لیگ اور قائداعظم کو ووٹ نہ دیاتو وہ میرا مرید نہیں، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے ایک بار قائداعظم کے بارے میں فرمایا تھا کہ محمد علی جناح کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کر سکتا ہے، اور معزز قارئین کرام یہ بھی پڑھیں کہ مولانا شبیر احمد عثمانی کہ جن کا شمار برصغیر کے اعلیٰ درجے کے علماء میں کیا جاتا ہے اور جن کے بارے میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے فرمایا تھا کہ مولانا شبیر احمد عثمانی کے ہوتے ہوئے اب ہمیں کوئی فکر اور غم نہیں رہا، ایسا وقت بھی تھا کہ مولاناتحریک پاکستان اور قائد اعظم کے مخالف رہے ،لیکن آپ نے قائداعظم کا جنازہ پڑھایا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں پڑھایاتو اس بارے میں علامہ شبیر احمد عثمانی کا جواب آج بھی تاریخ کا حصہ ہے، آپ نے فرمایا کہ مجھے خواب میں حضور اکرمۖ کی زیارت ہوئی اور سرکارِ دوعالمۖ نے مجھے ہدایت کی کہ میں قائد اعظم کا جنازہ پڑھاؤں، اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہو سکتی ہے۔