پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ انسانی ذہن نئی بات کو آسانی سے قبول نہیں کرتا، تمام مسائل کا حل ایک سا نہیں ہوتا، حالات او ر واقعات کے بدلنے کے ساتھ سوچنے کے انداز کو بدلنا بھی ضروری ہے ورنہ مسائل کبھی حل نہیں ہوتے، اس کی آسان سی مثال یہ ہے کہ اگر ایک گاڑی کے پہیے کیچڑ میں پھنس جائیں، گاڑی کا انجن بھی کام کررہا ہو گا اور پہیے گھوم بھی رہے ہوں گے لیکن گاڑی آگے نہیں بڑھے گی، اب کچھ نیا سوچنا ہو گا اور کچھ نیا کرنا ہوگا، نئی سوچ ہی تبدیلی کو جنم دیتی ہے،تبدیلی ہمیشہ مختلف اور مشکل ہوتی ہے اسی لئے ذہن اس کو قبول نہیں کرتا، جب ایک بات صدیوں سے چلی آرہی ہے اور سب ہی اسے مانتے ہیں اور آپ بھی بچپن سے اسے سنتے آئے ہیں تو اب یہ نئی بات کہاں سے آگئی ، اور اسی جانب شاعر مشرق نے توجہ دلائی تھی کی
آئین نوسے ڈرنا،طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں
کسی بھی راستے پر چلتے ہوئے اگر آپ منزل پر نہیں پہنچ رہے تو آپ نیا راستہ اختیار کرتے ہیں، مطلوبہ نتیجہ نہ نکلے تو ہم سب کچھ بدلنے کو تیار ہوتے ہیں، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ بیمار کا علاج تب ہی ممکن ہے کہ جب بیمارخود یہ مانے کہ وہ بیمار ہے، ہم دنیا میں سب سے زیادہ حج اور عمرہ کرنے والے لوگ ہیں، لیکن دیگر عبادات کی طرح فرد اور معاشرے کی اصلاح میں اس حج کے کوئی اثرات نہیں ہیں، اس لئے میں چند امور کی بناء پر یہ کہتا ہوں کہ اب ہمیں کچھ عرصے کے لئے حج نہیں کرنا چاہیئے، ایک یہ کہ ہمارے حج کی بنیاد صرف اپنی نجات کی فکر ہوتی ہے جو اسلام کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ حج ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہیں لاتا ، تیسری وجہ یہ ہے کہ اب حج بہت زیادہ مہنگا ہو گیا ہے اور اسی دولت سے بہت سے غریب، مقروض، نادار اور حاجت مندوں کی مدد کی جاسکتی ہے اور آخری وجہ یہ کہ سعودی حکومت کے لئے حج اب ایک بہت بڑی صنعت بن گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے چکر میں حجاج کو سعودی حکومت کے ظلم وستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس میں پاکستانی حکام بھی برابر کے شریک ہیں تو اس ظلم کے خلاف احتجاجاً اب حج کچھ عرصے کے لئے موقوف کرنا چاہیئے، مجھے خود بھی عمرے پر جانے کا اتفاق ہوا ہے اور میں پچھلے کئی سال سے اس سب کا مشاہدہ کررہا ہوں، حال ہی میں حج سے واپس آئے ایک میاں بیوی سے میں نے اسی حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے، آپ بھی ملاحظہ کریں، کہنے لگے کہ انتظامات کا یہ عالم تھا کہ جاتے وقت ہوائی اڈے پر سفارش سے کام لینا پڑااور وہاں تمام انتظامات کا یہی عالم تھا، وہاں بھی کوئی راستہ بتانے والا نہیں ہوتا تھا اور گوگل کی مدد سے منزل پر پہنچتے تھے اب کتنے ہی ایسے لوگ تھے جو گوگل کا استعمال نہیں جانتے تھے، کہنے لگے کہ جب بھی کھانا دیا جاتا تو ایک ایک بندہ تین تین لوگوں کا کھانا لے لیتا اگر پوچھیں تو جواب ہوتا کہ ہم نے اتنے پیسے دیئے ہیں اب پورے کرنے ہیں، اور اگر دینے والا منع کرتا تو کہتے کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے آپ یہاں ہمارے پیسوں پر آئے ہیں، کوئی قطار میں کھڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنے کے لئے تیار نہیں تھا،ہمارے بالکل قریب ہی ترکی والوں کا کھانا دیا جاتا تھا اور وہاں مکمل سکون اور نظم و ضبط نظر آتا تھا، سعودی حکام کا رویہ ہمارے ساتھ بہت ہتک آمیز تھا، ہم پاکستان سے پولیو کے قطرے پی کر گئے تھے لیکن وہاں ہماری بات نہ سنی گئی ہم نے انہیں دستاویزی ثبوت بھی دیئے لیکن ہمیں قطرے دوبارہ پلائے گئے، سعودی عملے نے جب ایک بار آپ کو ”لا” کہہ دیا پھر وہ آپ کی درست یا غلط کوئی بھی بات نہیں سنتے، جہاں بھی جانا ہوتا بے پناہ ہجوم کا سامنا کرنا پڑتا، حاجی صاحب نے کہا کہ اس کی وجہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہے، ایک دن حرم جانے کے لئے بس نہیں ملی ٹیکسی میں گئے اور تین سو ریال دینے پڑے حالانکہ کہ کرایہ صرف بیس سے تیس ریال ہے، حج کے دنوں میں دوسرے شہروں سے بھی ٹیکسیوں والے حاجیوں کو لوٹنے کے لئے مکہ آجاتے ہیں، حج تو آٹھ ذی الحجہ کو شروع ہوتا ہے لیکن انہوں نے ہمیں سات کو ہی پابند کر دیا، دن کو کہیں نہ جانے دیا، حرم میں نمازیں نہ پڑھ سکے، ساری رات بے آرامی میں گزری، رات دو بجے بس آئی، لوگوں کی بے صبری اور دھکم پیل کا عالم نہ پوچھیں، نہ کسی بزرگ کا لحاظ اور نہ کسی عورت اور معذور کا خیال، ایک نشست پر اگر کوئی خود بیٹھا ہے تو ساتھ والی پر بھی آپ کو نہیں بیٹھنے دے گا کہ یہ میں نے فلاں کے لئے رکھی ہے، رات دو بجے ہمیں منیٰ لے گئے اور اب یہاں سے پاکستانی معاونین کا کام ختم اور اب آپ سعودی کمپنی ضیوف البیت کے رحم و کرم پر ہیں، نہ کوئی کچھ پوچھنے والا اور نہ کوئی کچھ بتانے والا، جگہ جگہ جاہل سعودی لڑکے کھڑے ہیں جن کو نہ انگریزی آتی ہے اور نہ اردو اور ان کی زبان پر دو ہی لفظ ہیں، ”مافی اور لامعلوم” اللہ اللہ کرکے اپنے خیمے میں پہنچے تو سارے گدوں پر قبضہ ہو چکا تھا، ایک گدے پر اگر حاجی صاحب خود بیٹھے ہیں تو دوسرے پر انہوں نے اپنا سامان رکھ لیا ہے اور اب حاجی صاحبان کے درمیان گدوں پر باقاعدہ لڑائیوں کا آغاز ہو چکا ہے، یہ میرے دوست کا گدا ہے آپ قریب نہ آئیں اور گدے کیا تھے ماشاء اللہ ڈیڑھ ضرب ساڑھے پانچ فٹ، بڑا گدا صرف اس لئے نہیں دیا جاتا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جانوروں کی طرح ایک خیمے میں ٹھونسا جائے تاکہ ان غریبوں کی ساری عمر کی کمائی کو لوٹا جا سکے، اگر آپ نے وضو کرنا ہے یا حاجت کے لئے جانا ہے تو لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو جائیں، خیر پاکستانیوں نے اس کا ایک حل تو نکالا کہ پینے کے لئے جو معدنی پانی ملا تھا اسی کو استنجاء اور وضو کے لئے استعمال کرتے اور پانی کو بے دریغ ضائع کرتے تھے، ضیوف البیت کے لئے بیت الخلاء کی گندگی کا عالم نہ پوچھیں،اور ہمارے لوگ بھی پانی ڈالنے کو گناہ سمجھتے تھے، کوئی بھی صفائی کا خیال نہیں رکھ رہا تھا، بنگلہ دیشیوں کے بیت الخلاء جانے کا اتفاق ہوا تو وہ بالکل صاف ستھرے تھے،ان کے خیموں میں گدے نہیں بلکہ بستر بن جانے والا صوفہ تھا، جب چاہتے اسے بند کرکے آرام سے بیٹھ جاتے تھے، اسی طرح ہم نے اگلی صبح عرفات جانا تھا لیکن انہوں نے ہمیں رات کو ہی یہ کہہ کر نکال دیا کہ جاتے ہو تو جاؤ ورنہ بعد میں ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے، اب عرفات کا عالم نہ پوچھیں، ایک اندھیر نگری ہے اور شدید افراتفری ہے، ایسی بداخلاقی اور بات بات پر بدتمیزی تو عام حالات میں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے، کوئی کسی کو بیٹھنے دے رہا ہے نہ لیٹنے، یہاں سے ہٹ جاؤ یہ میری جگہ ہے، بتی بند کرو ، کوئی جگہ دینے، درگزر کرنے یا معاف کرنے کو تیار نہ تھا، انہی بدزبانیوں اور لڑائیوں میں صبح ہو گئی، قضائے حاجت کے لئے جانے لگے تو پچاس میٹر لمبی قطار کاسامنا تھا، جو بھی اندر جاتا نہانے لگ جاتا، کرتے رہیں لوگ باہر انتظار کرتے رہتے، ان شاء اللہ اگلے کالم میں بات مکمل ہو گی۔