کہنا آسان کرنا مشکل

نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی کے بلوں کے حوالے سے معاہدوں کے خلاف اقدامات نہیں کئے جا سکتے لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر بجلی چوری روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیںبجلی چوری واقعی میں بڑا مسئلہ ہے ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت لائن لاسز یا بجلی چوری کی مد میں پانچ کھرب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔اس حوالے سے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے اگر یہ خسارہ ہی کنٹرول کر لیا جائے تو لوگوں کی مشکل کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ ٹیکنیکل طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ ان لوگوں کی نشاندہی کرنا جو بجلی چوری کرتے ہیں زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔اس شور شرابے میں وفاقی نگراں حکومت نے بجلی چوری روکنے کے لیے وزارت توانائی سے تجاویز طلب کی ہیں۔ ابھی تک جو تجاویز سامنے آئی ہیں ان میں حکومت ایک آرڈیننس لانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں بجلی کا بل نہ دینے والے افراد کو بھی بجلی چور تصور کیا جائے گا۔ اور بجلی چوری کی تعریف بل نہ دینے والوں کے برابر کی جا رہی ہے۔ایسا کرنا شایدمناسب نہ ہو کیونکہ بل میں تاخیر ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔اگر کسی کے پاس پیسوں کی کمی ہے تو اس کو بجلی چوری سے تشبیہ نہیں دے سکتے ہیں۔ بلکہ ان کو ادائیگی کی سہولت قسطوں کی شکل میں فراہم کرتے ہیں۔ کن علاقوں میں بجلی چوری ہو رہی ہے اور کون کرتا ہے۔ تو ایکشن صرف ان کے خلاف ہونا چاہیے۔بجلی چوری کی روک تھام میں کامیابی ہوتی ہے تو یہ بل دینے والے صارفین کے لئے بھی ریلیف کاباعث بن سکتا ہے اس سے خسارے میں کمی آئے گی لیکن صرف یہ کافی نہ ہوگا بلکہ آئی پی پیز کے معاملات کوبھی دیکھنے پر کھنے اور ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور آئندہ کے لئے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ جیسے ہی معاہدوںکی مدت پوری ہوتی جائے کسی قیمت پر بھی اس کی توسیع نہ ہو۔ملک میںبجلی کے بلوں کاجو بحران احتجاج کی صورت میں سامنے ہے عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق مجبوراً احتجاج پر مجبور ہیں حکومت کو اس وقت بلوں کی ادائیگی میں رعایت پرتوجہ دینی چاہئے بجلی چوری کی روک تھام کے لئے اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کو بجلی چوری پر مجبور کرنے والے عوامل سے بھی نجات دلانے پر توجہ ہونی چاہئے تاکہ بجلی چوری کی نوبت نہ آئے اور عوام اضافی بل آنے پر اسے ظلم تصور کرتے ہوئے انکار پر مجبور نہ ہوجائیں۔