آواز دوست

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان اشرافیہ جمہوریہ پاکستان میں تبدیل ہوچکا ہے جس میں دستور پر کوئی عمل درامد نہیں ہورہا، دستورمیں لکھا ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہوگی مگر یہاں حاکمیت آئی ایم ایف اور بڑے مالیاتی اداروں کی ہے ،جس کی زندہ مثال بجلی بلوں میں کمی کے لئے حکمرانوں کی طرف سے آئی ایم ایف سے اجازت لینے کے بیانات ہیں دستور میں لکھا ہے کہ اقتدار عوام کی مقدس امانت ہے مگر یہاں اقتدار ایک فیصد اشرافیہ کی امانت بن چکی ہے پاکستانی اشرافیہ سالانہ 17.4 ارب ڈالر کی رعایت حاصل کرتی ہے ،جوکہ مجموعی بجٹ کے پچاس فیصد سے زیادہ ہے چیلنج سے کہتا ہوں کہ موجودہ حکمران بجلی میں کوئی رعایت نہیں دیگی کیونکہ انہیں اشرافیہ کے مفادات عزیز ہیں گزشتہ حکومت نے جاتے جاتے آخری اکیس دنوں میں 75 قوانین کی منظوری دی جس کے لئے ہر ایک پارلیمینٹرین کو20کروڑ روپے رشوت دی گئی یہ سابق وزیر اعظم کا اپنا بیان ہے مگراس میں ایک بھی قانون عوام کے مفادات کے لئے نہیں۔اس وقت اگر ایوان میں کسی شخص کی توانا آواز سنائی دیتی ہے تو وہ جماعت اسلامی کے اراکین اور نمائندے ہی ہیں جو عوام کے دکھ درد کا اظہار عوامی انداز اور عوامی طرز بیان سے عوامی طور پر کرتے ہیں مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے کے مصداق گزشتہ حکومتیںہوں یا موجودہ حکومتیں ہر دور میں آنکھیں موندلینے کا عمل جاری چلا آرہا ہے مگر تابکے ۔ عوام کے تیور بدلتے دکھائی دے رہے ہیں اب صوبے کے روایتی معاشرے کی برقع پوش خواتین بھی احتجاج کے لئے نکلنے لگی ہیں اور حکومت کے نہیں بلکہ اس ظالمانہ نظام کے خلاف سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر احتجاج کی جو فضا بن رہی ہے اس کا حکمرانوں کو ادراک ہونا چاہئے ایسا نہ ہو کہ عوام اشرافیہ کواپنے مسائل کا ذمہ دار گردان کر ان کی طرف مڑ جائے اور حالات قابو سے باہر ہوجائیں۔جو سیاسی جماعتیں عوام کی بات کرتی ہیں بدقسمتی سے عوام ان کی بجائے ایسی جماعتوں کو ایوان میں پہنچانے کی رائے دیتی آئی ہے جو اقتدار میں آنے کے بعد عوام کو بھول جاتی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ جو لوگ اور قیادت عوام سے مخلص ہوں اور ان کی بات کرے عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ مشکل حالات میں کھڑے ہونے والوں کو الیکشن میں نا بھولیں ایسا کرکے ہی عوام کی ہمدرد قیادت لائی جا سکتی ہے بہرحال یہ عوام کا فیصلہ ہی ہے جو حکومت سازی اور اقتدار کا فیصلہ کرتی ہے اس لئے عوام کو بھی شعور کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کی اہلیت رکھنے والی دیانتدار قیادت آگے آئے۔

مزید پڑھیں:  سابق وزراء کے اعترافی بیانات