فیس کی عدم ادائیگی پر تنازع، گوگل نے متعدد بھارتی ایپلی کیشن پلے اسٹور سے ہٹا دیں

گوگل نے اپنے رقم کی ادائیگی کے معاملے پر بھارت کی چند اہم ایپلی کیشنز کو پلے اسٹور سے ہٹا دیا ہے جس سے بھارتی حکومت اور گوگل کے درمیان نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق گوگل نے اپنے پلے اسٹور سے جمعہ کو بھارت کی مشہور شادیوں کی ایپلی کیشن ’بھارت میٹری مونی‘ کے ساتھ ساتھ نوکری ڈھونڈنے میں مددگار ایپلی کیشن ’نوکری‘ کو بھی ہٹا دیا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ ان ایپلی کیشنز نے سروس فیس کی ادائیگیوں کے حوالے سے رہنما اصولوں پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے انہیں پلے اسٹور سے ہٹایا گیا ہے۔
بھارت کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی آشوانی ویشنو نے گوگل کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سے ایپ اسٹور سے ایپلی کیشنز ہٹانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مری گوگل سے بات ہوئی ہے اور میں ان اسٹارٹ اپس سے بھی بات چیت کروں گا جنہیں ملک میں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
گوگل نے ابھی تک اس معمالے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ایپلی کیشن کو پلے اسٹور سے ہٹانے کے عمل کی متعدد اسٹارٹ اپ کمپنیوں نے تنقید کا نشانہ بنایا جو ایک عرصے گوگل کے کام طریقہ کار کے خلاف احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ اسے عدالتوں میں چیلنج بھی کر چکی ہیں۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اس سروس فیس کا استعمال پلے اسٹور اور اینڈرائیڈ کے ایکو سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
بھارت کے کچھ اسٹارٹ اپس نے گوگل کی جانب سے وصول کی جانے والی 11-26 فیصد کی سروس فیس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن رواں سال جنوری اور فروری میں سپریم کورٹ سمیت بھارت کی دو عدالتوں نے گوگل اس فیس کو وصول کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
گوگل نے اس حوالے سے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ادائیگیوں کی مد میں بھاری رقم وصول کرنے والی کچھ بھارتی کمپنیوں نے ہمیں اس رقم میں سے فیس کی ادائیگیاں نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس سلسلے میں سب سے زیادہ متاثر شادیوں کی کمپنی ’میٹری منی ڈاٹ کام‘ ہوئی ہے جس کی 150 سے زائد ایپلی کیشنز کو گوگل نے پلے اسٹور سے ہٹا دیا ہے۔
’میٹری منی ڈاٹ کام‘ کے بانی مورو گاویل جناکی رامن نے ہفتے کو خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمام ایپلی کیشنز ہٹا دی گئی ہیں اور اب پلے اسٹور پر موجود نہیں ہیں، اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس کاروبار نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ اگر یہ سب طویل عرصے تک جاری رہا تو ہمارے منافع میں نمایاں کمی آئے گی۔
اس کے علاوہ مشہور ایپلی کیشن ’نوکری‘ اور ایک ریئل اسٹیٹ ایپلی کیشن کو بھی گوگل نے پلے اسٹور سے ہٹا دیا ہے۔

مزید پڑھیں:  روزانہ کی بنیادوں پر مریخ کا سیارچوں سے تصادم کا انکشاف