ہم سے جواب مانگے جارہے ہیں،جواب انہیں دینا چاہیے جنہوں نے ملک کو اس حال میں پہنچایا- وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے کوئی کوتاہی نہیں کی جائے گی،ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے،ڈی دل ملک کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے،ٹڈی دل کےخاتمےکیلئےجوکرسکتے ہیں وہ کریں گے،ٹڈی دل کے معاملے پر31جنوری کو ایمرجنسی نافذ کی،ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے این ڈی ایم اےکو اختیارات دیئے.

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا کے 26کیسز پر کارروائی شروع کی،شروع میں سخت لاک ڈاوَن سے متعلق بہت پریشر تھا،ہمیں کوروناکےساتھ ساتھ غربت کے مسئلے کا بھی سامنا تھا،13مارچ سے آج تک ایک بھی بیان میں تضاد نہیں،کورونا کےخلاف سارے صوبوں نے اپنے طور پر اقدامات کیے،ہمیں سوچنا ہوگا کہ مکمل لاک ڈاوَن سے ملک پر کیا اثر پڑے گا.

وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ این سی او سی میں شامل ارکان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،این سی او سی میں تمام دنیا کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا،ہماری ٹیم میں کبھی کنفیوژن نہیں تھی،قوم کو بتانا چاہتا ہوں اب بہت مشکل مرحلہ ہے،کورونا کےخلاف کسی حکومت میں کنفیوژن نہیں تھی تو وہ ہماری حکومت ہے،عوام کو سمجھنا چاہیے ایس او پیز پر عمل درآمد کیوں ضروری ہے،اسپتالوں پر دباوَ بڑھ چکا ہے،احتیاط نہ کیا گیا تو مزید بڑھے گا.

ان کا کہنا تھا کہ اسمارٹ لاک ڈاوَن کا مطلب کمزور افراد کو کورونا سے بچانا ہے،پاکستان میں کورونا سے4ہزار اموا ت ہوچکی ہیں،کورونا سے اموات پر افسوس ہے،این سی او سی میں صوبوں، شہروں اورعلاقوں کی بھی رپورٹ آتی ہے،ایس او پی ایز پر عمل درآمد کیلئے ٹائیگر فورس کا استعمال کررہے ہیں،اس ماہ احتیاط کرلی تو مشکل وقت سے بچ سکتے ہیں،آئی ایم ایف کے مطابق دنیا کی معیشت کو12ٹریلین ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے،برطانوی معیشت 20فیصد کم ہوچکی ہے،کوئی نہیں بتاسکتا معاشی بحران کب تک رہے گا.

وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ حکومت ملی تو20ارب ڈالر کا کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ تھا،حکومت ملی تو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ تھا،ہمیں کوئی سوئٹزرلینڈ کی معیشت نہیں ملی تھی،ڈالر کی قیمت بڑھنے سے غربت میں اضافہ ہونا تھا،پہلے سال آدھے ٹیکس کی وصولی سے قرضوں کی ادائیگی کی گئی،ملک کا یہ حال ہماری وجہ سے نہیں تھا.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 3ماہ تک مختلف ممالک پیسے مانگنے جاتے رہے،ملک ڈیفالٹ ہونے والا تھا اس وجہ سے پیسے مانگے،امریکہ کے دورے پر نوازشریف اور آصف زرداری سے کم خرچ کیے،ہم قرضے لیتے جارہے تھے دوسری جانب حکمران شاہانہ خرچ کررہے تھے،ہم سے جواب مانگے جارہے ہیں،جواب انہیں دینا چاہیے جنہوں نے ملک کو اس حال میں پہنچایا،آج کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ 20سے3ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاوَس کے اخراجات کم کیے،اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا،پاک فوج نے بھی اپنے اخراجات کم کیے،احساس پروگرام عوام کو غربت سے نکالنے کا پروگرام ہے،کوروناسےپہلے17فیصدٹیکس گروتھ تھی،اب تک ہم 5ہزار ارب روپے قرضے واپس کرچکے ہیں،وزیراعظم ہاؤ س کا اسٹاف 534 سےکم کر کےآدھا کردیا،اسٹاف اور کم ہوسکتاہے لیکن لوگوں کو بے روزگار نہیں کرنا چاہتے،کورونا وائرس سے شمالی علاقہ جات سب سے زیادہ متاثر ہیں.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاحت کا شعبہ کھولنے سے متعلق سوچ رہے ہیں،سب سے پہلے کنسٹریکشن کا شعبہ کھولا،سب سے پہلے تعمیراتی شعبہ کھولا،زراعت کے شعبے کیلئے50ارب روپے رکھے ہیں،کھاد کی قیمتوں میں سبسڈی دی ہے،کوشش ہے زراعت کے شعبے میں چین سے ٹیکنالوجی حاصل کریں،خرچے کم کرنے سے پرائمری خسارہ ختم ہوگیا ہے ،براہ راست سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر سےدگنی ہوکر2.1ڈالرہوگئی،امیر اور غریب میں فرق ترقی میں رکاوٹ ہے،ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں میں ریکارڈ وقت میں فنڈ تقسیم کیے گئے،کوئی نہیں کہہ سکتا کہ احساس پروگرام میں سیاسی مداخلت ہے،اب تک حکومت200پناہ گاہیں بنا چکی ہیں،مزدور اور دیہاڑی داروں کیلئے مختلف شہروں میں پناہ گاہیں بنا رہے ہیں،ایک کروڑ خاندانوں کو انصاف کارڈ پہنچا رہے ہیں،کےپی حکومت نے تمام غریب خاندان کو انصاف کارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے،انصاف کارڈ غریب خاندانوں کیلئے معاشی تحفظ ہے،قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے علاقوں میں ترقی نہ ہوسکی،بجٹ میں قبائلی اضلاع اور بلوچستان کو ریکارڈ فنڈز دے رہے ہیں،مارچ2021میں پورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم نافذ ہوگا،وزیر تعلیم نے2اہم کام کیےجوپہلےکبھی کسی نےنہیں کیے.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا کاسا تھ دے کرپاکستان کو ذلت اٹھانی پڑی،افغانستان میں امریکا کامیاب نہیں ہواتو ذمے داری بھی پاکستان پر ڈالی،آج امریکا افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو تسلیم کررہا ہے،ہم امن میں شرکت کریں گے جنگ میں شرکت نہیں کریں گے،آج امریکا افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو تسلیم کررہا ہے،ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کی کوشش کررہے ہیں،جنگ کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ،سخت موقف رکھنےوالاسینیٹرلنزی گراہم ہمارے موقف کی توثیق کرتاہے،افغانستان میں امن مذاکرات میں پاکستان کا بہت بڑا ہاتھ ہے ،آج ٹرمپ افغانستان میں امن کیلئےپاکستان سے مددکی درخواست کرتاہے،آج ہم کسی کی جنگ نہیں لڑرہے،نریندر مودی بھارت کے عوام پر عذاب ہے،آج انٹرنیشنل میڈیا میں بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے،آج بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو بہترانٹرنیشنل میڈیا ملتا ہے،میں نے دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا،مسئلہ کشمیر پر مزید آواز اٹھانی چاہیے تھی لیکن کنٹینر آگیا.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں کشمیر کا معاملہ پیچھے چلا گیا ،میرے خیال میں کشمیر کامعاملہ پوائنٹ آف نوریٹرن پر پہنچ گیاہے،چین کے ساتھ ہمارے بہترین اور تاریخی تعلقات ہیں،حادثہ ہویا کورونا،توکہاجاتاہےکدھر ہے مدینہ کی ریاست،ریاست مدینہ کے اصولوں پر چلنے والی قوم ترقی کرے گی،