وزیراعظم سے آئی جی سندھ کی ملاقات، تبادلے سے متعلق بات چیت

وزیراعظم عمران خان سے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کلیم امام سے ملاقات کی جس میں ان کے تبادلے سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔

ملاقات میں سندھ میں امن و امان کے مسائل سمیت مستقبل میں کلیم امام کے تقرر کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی جی سندھ نے وزیراعظم کو دیہی علاقوں میں بڑھتے ہوئے ’سیاسی دباؤ‘ کی وجہ سے پولیس کے فرائض پر اثرات کرنے والے چینلجز سے آگاہ کیا۔

 وزیراعظم آفس سے جاری بیان مختصر بیان میں کہا گیا کہ ’ آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی‘

بیان میں کہا گیا کہ ’ ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا ‘۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ ملاقات صوبے میں امن و عامہ پر صرف بریفنگ سے کہیں زیادہ تھی۔

ہفتوں سے جاری مباحثے، سیاسی تناؤ، بیانات پر تنازعات اور صوبائی و وفاقی حکام کی جانب سے سخت موقف کے بعد موجودہ آئی جی پولیس کے تبادلے کا معاملہ اب حل ہوتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے کیونکہ صرف نئے افسر کے نام پر اتفاق رائے ہونا باقی ہے۔

تاہم اس مسئلے پر ہونے والا تناؤ کسی بھی وقت پھر سر اٹھا سکتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ملاقات ایک بہت اچھے ماحول میں ہوئی، وزیراعظم نے آئی جی سندھ کو ملاقات کے لیے اسلام آباد بلایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ کراچی کے دوران آئی جی سندھ سے تفصیلی بات چیت نہیں ہوسکی تھی لہذا انہوں نے کلیم امام کو مذکورہ معاملے پر کہانی کا دوسرا رخ جاننے کے لیے طلب کیا تھا۔

ذرائع نے کہا کہ آئی جی سندھ نے وزیراعظم کو صوبے میں سیکیورٹی اور امن و عامہ کی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی اور ساتھ ہی کراچی سے متعلق تفصیلات بھی شیئر کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی جی نے وزیراعظم کو صوبے میں پولیسنگ کے دوران عام طور پر اور خاص طور پر کچھ اضلاع میں سیاسی دباؤ سے آگاہ کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے ایک سال سے زائد عرصے میں ہونے والے مختلف واقعات کا ذکر کیا جس کی وجہ سے پولیس اور سیاسی طور پر بااثر افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا  

انہوں نے بتایا کہ ’ آئی جی سندھ نے کچھ افسران سے متعلق اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور بدعنوانی سرگرمیوں سے متعلق موصول ہونے والی کئی شکایات سے آگاہ کیا لیکن ان کی سفارشات کے باوجود ان افسران کی ملازمتیں مضبوط روابط کی وجہ سے برقرار ہیں‘۔

اس حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ سید کلیم امام نے بتایا کہ جو افسران اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور بااثر افراد کے مفادات کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو انہیں صوبائی حکومت کی جانب سے کارروائی کا سامنا ہوتا ہے۔

وزیراعظم سے ملاقات میں آئی جی سندھ کے تبادلے کے معاملے پر بات چیت سے متعلق ذرائع نے بتایا کہ اس موضوع پر بات چیت ہوئی تھی

تاہم ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں گزشتہ چند مہینوں میں سامنے آنے والے مسائل پر زیادہ بات چیت ہوئی جو سندھ کی سیاسی انتظامیہ اور پولیس کی درجہ بندی کے درمیان تنازع کا باعث بن گئے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے آئی جی سندھ کی بات سنی اور پولیس کا ن3ظام بہتر بنانے کے لیے ان کی تجاویز طلب کیں۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم نے انہیں تبادلہ کرکے وفاقی حکومت میں اہم عہدے پر جلد تعینات کرنے کا عندیہ دیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ’ ڈاکٹر سید کلیم امام جمعرات (30 جنوری) سے دوبارہ بطور آئی جی سندھ اپنی خدمات جاری رکھیں گے، ان کا تبادلہ کب اور کہاں ہوگا ان سوالات کا جواب ابھی باقی ہے لیکن ایسا دیکھائی دے رہا ہے کہ معاملہ حل ہوگیا ہے اور ہم جلد کچھ تبدیلیاں دیکھ سکتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کلیم امام نے اپنے اور سندھ حکومت کے درمیان چلنے والے حالیہ تنازع پر کہا تھا کہ ان کے خلاف ایک بڑی سازش ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ تصور کیا جارہا ہے کہ میرا ٹرانسفر (منتقلی) ہوگیا ہے اور اس تقریب کو ایک منتقلی کی تقریب میں تبدیل کردیا گیا ہے

تاہم انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ میں اتنی آسانی سے ٹرانسفر نہیں ہورہا اور میں جب بھی جاؤں گا اپنے مقدر سے جاؤں گا اور ٹرانسفر نہیں ہوں گا بلکہ ایک نیا انقلاب ہوگا اور نئے مراحل پر جاؤں گا۔

وزیراعلیٰ سندھ کا آئی جی کیلئے مزید نام دینے سے انکار

علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں وفاقی کابینہ میں آئی جی سندھ کی تبدیلی سے متعلق فیصلے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اس دوران وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ ہم آئی جی سندھ کے لیے نام دے چکے ہیں انہی میں سے کسی کو اس عہدے پر تعینات کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ آئی جی سندھ کے لیے مزید نام نہیں دیں گے۔

لگتا ہے کابینہ کو بھی وزیراعظم پر بھروسہ نہیں، سعید غنی

علاوہ ازیں وزیر اطلاعات سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سعید غنی نے کراچی میں إیدیا کے ںمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کے لیے مزید نام نہیں دیں گے۔

سعید غنی نے کہا کہ 3 سال پہلے اگر آئی جی سندھ کو تبدیل کرنا ہوتا تو صوبہ، وفاق سے مشاورت کا پابند ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کی تبدیلی کی وجوہات بتائی گئیں کہ کابینہ نے فیصلہ کیا اور 3 میں سے ایک نام پر رضامندی بھی ظاہر کی گئی تھی۔

سعید غنی نے کہا کہ وزیراعظم کے اتفاق کے بعد 2 نام اور بھیجے گئے تھے، وزیراعظم ملک سے باہر تھے اور پیر تک معاملہ حل کرنے کا کہا گیا تھا۔

پیپلزپارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کراچی آئے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی جس میں آئی جی سندھ کی تبدیلی پر اتفاق بھی ہوا اور پھر معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا گیا، لگتا ہے کابینہ کو بھی وزیراعظم پر بھروسہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں آئی جی کی تبدیلی پر کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی وہاں آئی جی پانچ منٹ میں تبدیل ہوتا ہے، اس حوالے سے تفریق کی جارہی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ اب کابینہ نے گورنر سندھ سے بات کرنے کا کہا ہے، گورنر سندھ سے مشاورت نہیں کریں گے یہ قانون میں نہیں ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ اس حوالے سے ڈیڈلاک 28 دسمبر کے بعد ہوا جبکہ ہم آئی جی سندھ کے لیے مزید نام نہیں دیں گے۔

آئی جی سندھ کی تبدیلی کا معاملہ

واضح رہے کہ آئی جی سندھ کلیم امام کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تناؤ جاری ہے اور آئی جی سندھ پر اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سندھ کابینہ نے 15 جنوری 2020 کو انہیں عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دے دی تھی۔

 وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم کو جمعرات کی شام ایک خط بھیجا تھا جس میں انہوں نے آئی جی سندھ کے لیے غلام قادر تھیبو، مشتاق احمد مہر اور ڈاکٹر کامران کے نام تجویز کیے تھے۔

تاہم وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کی درخواست پر آئی جی سندھ کو فوری ہٹانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت کی درخواست زیر غور ہے جس پر کسی فیصلے تک کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے۔

تاہم 2 روز قبل ہونے والی ملاقات میں عمران خان نے وزیراعلیٰ سندھ کی آئی جی کلیم امام کی تبدیلی کے لیے کی گئی درخواست پر ‘مثبت اشارہ’ دیا تھا۔

اس حوالے سے رپورٹس تھیں کہ وزیراعظم نے نہ صرف ‘وزیراعلیٰ کے پولیس کمانڈ میں تبدیلی سے متعلق بات’ کو سنا تھا بلکہ اس پر کافی حد تک اتفاق بھی کیا تھا جبکہ سندھ کے گورنر نے بھی مراد علی شاہ کی بات کی حمایت کی تھی۔

تاہم ایک روز بعد ہی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد مجوزہ آئی جی مشاق مہر کا نام واپس لے لیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں